منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف نے ایف بی آر سے ڈومور کا مطالبہ کر دیا، حکام نے بڑی یقین دہانی کرا دی

datetime 23  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن)آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے ایف بی آر حکام کو ریونیوشارٹ فال کو پورا کرنے کیلئے اقدامات کرنے پر زوردیا۔اگلے مالی سال کیلئے بجٹ کی تیاری کا عمل شروع کردیا جائے گا۔ غیر ضروری ٹیکس چھوٹ و رعایات ختم کی جائیں گی اور ٹیکس نیٹ بڑھایا جائیگا۔ دسمبر کیلیے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 508 ارب 45کروڑ10 لاکھ روپے ہے ہدف حاصل کرنے کے حوالے سے تیار لائحہ عمل سے آئی ایم ایف کو ایف بی آر کی جانب سے یقین دہانی۔

زرائع کے مطابق ایف بی آر کے اعلی حکام نے وڈیوکانفرنس پر واشنگٹن میں معلومات کا تبادلہ کیا۔آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے ایف بی آر حکام کو ریونیوشارٹ فال کو پورا کرنے کیلیے اقدامات کرنے پر زوردیا گیا۔ایف بی آر کیا اعلی حکام نے آئی ایم ایف کی ٹیم کو آگاہ کیا کہ اضافی ریونیو اکٹھا کرنے کے لئے اقدامات کیے گئے ہیں اور ایف بی آر کی طرف سے کی جانے والی کاوشوں کے نتیجے میں رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ کے اقتصادی اعدادوشمار حوصلہ افزا ہیں۔آئی ایم ایف حکام کو بتایا گیا ہے کہ رواں ماہ دسمبر کے لئے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 508 ارب 45کروڑ10 لاکھ روپے حاصل کرنے کے لئے تمام فیلڈ فارمشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ نہ صرف رواں ماہ کے ہدف کے حصول کو یقینی بنایا جائے بلکہ پچھلے شارٹ فال میں کمی لانے کے لئے اضافی ریونیو بھی اکٹھاکیا جائے۔ملکی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے ساتھ ساتھ ریونیو گروتھ میں بھی اضافہ ہوا ہے اور توقع ہے کہ رواں مالی سال دسمبر میں ریونیو گروتھ مزید بڑھے گی، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کیلیے اقدامات کیے جارہے ہیں جبکہ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے سے متعلق معاہدے پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے، ملک بھر میں تاجر نمائندوں پر مشتمل کمیٹیاں قائم کی جارہی ہیں اور کمیٹیوں کے دائرہ کار پر مشتمل ٹی او آر جاری کردیے گئے ہیں جبکہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط دہشتگردوں کی مالی معاونت

اور منی لانڈرنگ کی صورت میں دہشتگردی کیخلاف عالمی جنگ کے حوالے سے پاکستان حکومت ایف بی آر کی پالیسیوں سے آگاہ کیا۔ ایف بی ار نے تمام بینکوں کے ساتھ کئے گیے ڈیٹا شئیرنگ کے معاہدے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا ذرائع نے بتایا ہے کہ کہ وزارت خزانہ اور ایف بی آر کی جانب سے ایم ایف حکام کو بتایا گیا ہے کہ آئندہ ماہ سے اگلے مالی سال کیلیے بجٹ کی تیاری کا عمل شروع کردیا جائے گا اور اگلے بجٹ میں بھی غیر ضروری ٹیکس چھوٹ و رعایات ختم کی جائیں گی اور ٹیکس نیٹ بڑھایا جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…