جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

مودی کی منطق ہی نرالی، مسلم مخالف بل پر ہونیوالے مظاہروں کوکس کی کارستانی قرار دیدیا

datetime 22  دسمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انوکھی منطق استعمال کرتے ہوئے شہریت سے متعلق مسلم مخالف بل پر ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو اپوزیشن جماعتوں کی کارستانی قرار دیدیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے

وزیراعظم نریندر مودی نے شہریت ترمیمی بل کیخلاف مظاہرہ کرنے والوں پر پولیس تشدد کی حمایت کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی کا ذمہ دار کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ٹھہرا دیا۔احتجاجی مظاہروں سے جھنجھلاہٹ کے شکار وزیراعظم مودی نے مزید کہا کہ کانگریس اور ان کے چند حمایتی جماعتیں بل کیخلاف منفی پروپیگنڈا کر کے مسلمانوں کے جذبات بھڑکا رہے ہیں حالانکہ یہ بل صرف نئے تارکین وطن مسلمانوں کو شہریت نہیں دیتا جبکہ اس بل سے برسوں سے بھارت میں مقیم مسلمانوں کو کوئی بھی فرق نہیں پڑے گا۔عوامی دباؤ سے پریشان بھارتی وزیراعظم نے بل کی حمایت میں انوکھی منطق پیش کی کہ مسلمانوں کو برابر کا شہری سمجھتے ہیں اسی لیے کسی آبادی کو لیز کیا جاتا ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ مسلمان گھرانوں کو لیز نہ دی گئی ہو یا غربت سرٹیفکیٹ کی تقسیم میں کسی مسلمان کو محروم رکھا گیا ہو۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انوکھی منطق استعمال کرتے ہوئے شہریت سے متعلق مسلم مخالف بل پر ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو اپوزیشن جماعتوں کی کارستانی قرار دیدیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے شہریت ترمیمی بل کیخلاف مظاہرہ کرنے والوں پر پولیس تشدد کی حمایت کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی کا ذمہ دار کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ٹھہرا دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…