جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

یونیورسٹی نے عطیہ کی گئی نعش وصول کرنے سے انکار کر دیا، لواحقین کو جب کہا گیا کہ میت دفنا دیں تو وہ غصہ ہو گئے، حیران کن وجہ سامنے آ گئی

datetime 22  دسمبر‬‮  2019 |

برسلز (این این آئی)بیلجیم میں سائنسی تجربات کے لئے میت وصول کرنے والی یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ کم از کم ایک سال کیلئے کوئی نعش وصول نہیں کرسکے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ اعلان فری یونیورسٹی آف برسلز (یو ایل بی)کی جانب سے اس وقت سامنے آیا جب17 دسمبر کو یونیورسٹی اسپتال میں فوت ہونے والی ایک خاتون کی نعش وصول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

مذکورہ خاتون نے 5 سال قبل اپنی میت عطیہ کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔لواحقین سے کہا گیا کہ وہ خاتون کی میت کو دفنا دیں، جس پرخاتون کے بچوں نے شدید غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی والدہ کی وصیت کا احترام نہیں کیا جارہا، جبکہ اس بات سے انہیں پہلے آگاہ بھی نہیں کیا گیا۔اس شکایت کے جواب میں یونیورسٹی کی اناٹومی لیبارٹری کے ذمہ داران نے بتایا کہ ان کے پاس پہلے سے موجود میتوں کے علاوہ 10 ہزار سے زائد افراد کی سائنس کیلئے اپنی نعش عطیہ کرنے کی وصیتیں موجود ہیں۔اس وقت یونیورسٹی ہر ہفتے صرف تین نعشیں استعمال کررہی ہے، جنہیں میڈیکل، ڈینٹسٹری اور دیگر سائنسی تجربات اور طلبہ کو تعلیم دینے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔یو ایل بی یونیورسٹی کی انتظامیہ اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں حاصل ہونے والی نعشوں کو دوسری یونیورسیٹیوں کو بھی فراہم کر سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…