جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بھارت کی جعلی ویب سائٹس اور جعلی این جی اوز کا نیٹ ورک دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف مصروف عمل، یہ کام کتنے ملکوں میں جاری ہے اور اس کے پیچھے کون کون ہے؟ انتہائی دھماکہ خیز انکشافات

datetime 18  دسمبر‬‮  2019 |
فوٹو:انٹرنیٹ

سرینگر(این این آئی) بیلجم میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جعلی ویب سائٹس پر مبنی بھارت کا ایک نیٹ ورک دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کررہا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ای یو ڈس انفارمیشن لیب نے اپنی رپورٹ میں کہاکہ اس نے 65سے زائد ممالک میں 265جعلی نیوز سائٹس کا پتہ لگایا ہے جن کو ایک بھارتی نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ محققین نے کہاکہ انہوں نے ویٹ سائٹس اور آئی پی ایڈریسز کا پتہ چلایا جوایک بھارتی کمپنی شری واستو گروپ کے تھے۔

محققین سمجھتے ہیں کہ نیٹ ورک کا مقصد بھارت کے ہمسایہ اور حریف ملک پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ہے۔ دونوں ممالک طویل عرصے سے ایکدوسرے کے خلاف اپنے بیانیے کو حاوی کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نواز جعلی ویٹ سائٹس اورتھنک ٹینکس شروع کرنے کا مقصد یورپی یونین کے فیصلہ ساز اداروں پر اثر انداز ہونا ہے۔ ای یو ڈس انفارمیشن لیب کے الیگزینڈر الافلپی نے کہاکہ جعلی نیوز سائٹس کے علاوہ جعلی این جی اوز بھی قائم کی گئی ہیں جوپریشان کن ہے کیونکہ یہ کسی مقصد کے لیے آن لائن اورنچلی سطح پر مدد فراہم کرتی ہیں۔ برسلز میں قائم اس گروپ کے مطابق اس طرح کی ویب سائٹس کے نیٹ ورک میں یورپ میں پاکستان مخالف لابنگ گروپوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ کچھ جھوٹی معلومات کی مہم کا مقصد یورپی اداروں اور اقوام متحدہ کو متاثر کرنا تھا۔گروپ نے کہاکہ اس کی توجہ یورپی یونین، اس کے رکن ممالک، اہم اداروں اوربنیادی اقدار کو نشانہ بنانے والی جھوٹی معلومات کی مہموں پر تحقیق اور ان سے نمٹنے پرمرکوز ہے۔گروپ کے مطابق پاکستان مخالف نیٹ ورک کی برسلز، جنیوا اورسٹراسبرگ جیسے یورپی شہروں میں مضبوط موجودگی ہے جواحتجاج مظاہروں اور سوشل میڈیا مہمات کو منظم کرتاہے۔ ای یو ڈس انفارمیشن لیب نے کہاکہ اس نے نیٹ ورک کے پیچھے نئی دہلی میں قائم ایک بھارتی کمپنی شری واستو گروپ کا پتہ لگایا جس نے اپنی ویٹ سائٹ پر قدرتی وسائل،

کلین انرجی، ائر سپیس، ہیلتھ کئیر، پرنٹ میڈیا اورپبلشنگ میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ تاہم بی بی سی ہندی کی رپورٹر کیرتی دوبے جب ویب سائٹ پر دیئے گئے پتے پر گئی تو اسے وہاں پر موجود سکیورٹی گارڈ نے بتایا کہ اس عمارت میں اس طرح کا کوئی دفتر نہیں ہے۔ گزشتہ چالیس سال سے وہاں مقیم ایک ہمسایہ نے ان کو بتایا کہ انہوں نے اس گھر میں کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔ شری واستو گروپ نے بی بی سی کے فون یا ای میل کابھی کوئی جواب نہیں دیا۔ آزاد مبصرین اس نتیجے پر پہنچے کہ شری واستو گروپ در اصل ایک پروپیگنڈا نیٹ ورک ہے جس کی سرپرستی ”را“ سمیت بھارتی ایجنسیاں کررہی ہیں تاکہ دنیامیں پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…