اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

کس ملک کی کھجوریں یونیسکو کی فہرست میں شامل ہوگئیں، رپورٹ جاری کر دی گئی

datetime 15  دسمبر‬‮  2019 |

بگوٹا (این این آئی)اقوام متحدہ کی تنظیم برائے ثقافت و سائنس یونیسکو نے 2019 کے دوران بنی نوع انساں کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں سعودی کھجوروں کو شامل کیا ہے۔عاجل ویب سائٹ کے مطابق 14عرب ممالک سعودی عرب، بحرین، مصر، عراق، اردن، کویت، ماریطانیہ، مراکش، سلطنت عمان، فلسطین، سوڈان، تیونس، متحدہ عرب امارات اور یمن نے اس حوالے سے اپنی شناخت رکھتے ہیں۔

کولمبیا کے دارالحکومت بگوٹا میں یونیسکو کی نمائندہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سعودی عرب کا حق تسلیم کرلیا گیا۔اس سے قبل سعودی عرب کے چھ مقامات یونیسکو کی فہرست میں شامل کیے جاچکے ہیں۔ کھجور ساتواں ہے۔ اس کی ثقافتی اہمیت یہ ہے کہ یہ صحرائی ماحول کی علامت ہے۔ علاوہ ازیں کھجور اور ان کے درخت مختلف صنعتوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کا عرب روایات اور رسم و رواج کی نمائندہ ثقافت سے گہرا تعلق ہے۔کمیٹی کا اجلاس یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل اوڈری ازولائی کی صدارت میں ہوا۔ کمیٹی 24 ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔ غیر مادی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے معاہدے میں یہ ممالک شامل ہیں۔یہ معاہدہ 2003 میں کیا گیا تھا۔ اب تک معاہدے کی توثیق 178ممالک کرچکے ہیں۔سعودی عرب یہ کھجوروں کی کاشت والا اہم ملک ہے۔ اس پر دو ارب سعودی ریال کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں کھجوروں کی 500 سے زیادہ قسمیں ہیں۔ نوے فیصد عرب دنیا اور بیشتر سعودی عرب میں پائی جاتی ہیں۔سعودی خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب کھجوروں کی کاشت اور پیداوار میں پوری دنیا میں بہت آگے ہے۔ سعودی کھجوروں کی طلب بین الاقوامی منڈیوں کی جانب سے بڑھتی جارہی ہے۔مکہ مکرمہ ریجن کی کمشنری تربہ 10 لاکھ کھجوروں کے درختوں کے حوالے سے معروف ہے۔ یہ درخت پوری کمشنری کے دو تہائی حصے میں لگے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کی خوراک کی تنظیم کے مطابق سعودی عرب میں 23 ملین سے زیادہ کھجوروں کے درخت ہیں۔ یہ سالانہ 1.122ملین ٹن کھجوریں دے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…