منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

موجودہ حکومت آمدنی بڑھانے اور اخراجات کم رکھنے میں ناکام ہوگئی،ایک ہفتے میں کتنے ارب نئے نوٹ چھاپنا پڑ گئے، دھماکہ خیز انکشافات

datetime 14  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)موجودہ حکومت آمدنی بڑھانے اور اخراجات کم رکھنے میں ناکام ہوگئی، جس کے باعث مارکیٹ سے اربوں روپے کے نئے قرضے بھی حکومت کے اخراجات پورے نہیں کر سکے، ایک ہفتے میں 96 ارب روپے کے نئے نوٹ چھا پنے پڑگئے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق حکومت نے دسمبر کے پہلے ہفتے کے دوران مجموعی طور پر 95 ارب 98 کروڑ 23 لاکھ روپے کے نئے نوٹ جاری کیے،

جس کے باعث مارکیٹ میں زیر گردش نوٹوں کی مالیت اس دوران 95 ارب 97 کروڑ 90 لاکھ روپے کے اضافے سے 56 کھرب 57 ارب 42 کروڑ 49 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی۔رواں مالی سال اب تک حکومت کی طرف سے مجموعی طور پر 338 ارب 37 کروڑ 43 لاکھ روپے مالیت کے نوٹ جاری کیے جا چکے ہیں،جو گزشتہ مالی سال اس عرصے سے 84 فیصد زیادہ ہیں،جبکہ رواں مالی سال اب تک حکومت بجٹ اخراجات پورے کرنے کیے لیے کرنسی مارکیٹ سے مجموعی طور پر تقریبا 600 ارب روپے قرض بھی لے چکی ہے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومت آمدنی کے مطابق خرچ کرنے کی بجائے اخراجات پورے کرنے کے لیے نئے نوٹ چھاپنے شروع کر دیتی ہیجو مہنگائی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ موجودہ حکومت آمدنی بڑھانے اور اخراجات کم رکھنے میں ناکام ہوگئی، جس کے باعث مارکیٹ سے اربوں روپے کے نئے قرضے بھی حکومت کے اخراجات پورے نہیں کر سکے، ایک ہفتے میں 96 ارب روپے کے نئے نوٹ چھا پنے پڑگئے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق حکومت نے دسمبر کے پہلے ہفتے کے دوران مجموعی طور پر 95 ارب 98 کروڑ 23 لاکھ روپے کے نئے نوٹ جاری کیے، جس کے باعث مارکیٹ میں زیر گردش نوٹوں کی مالیت اس دوران 95 ارب 97 کروڑ 90 لاکھ روپے کے اضافے سے 56 کھرب 57 ارب 42 کروڑ 49 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…