اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی لوک سبھا میں امتیازی ومتعصبانہ قانون سازی ، پاکستان کی جانب سے شدید ردعمل

datetime 10  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی) پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک کے غیرمسلم باشندوں اور تارکین وطن کو بھارتی شہریت دینے سے متعلق بھارتی لوک سبھا میں حالیہ قانون سازی جھوٹ اور دھوکے پر مبنی ہے ۔

یہ اقدام انسانی حقوق کے عالمی منشور اور ہر طرح کے امتیازات، مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر ہر قسم کے تعصبات کے خاتمے کے لئے بین الاقوامی معاہدات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ لوک سبھا کی قانون سازی پاکستان اور بھارت کے درمیان مختلف دوطرفہ معاہدات بالخصوص دونوں ممالک کی اقلیتوں کے حقوق اور سلامتی سے متعلق معاہدے کی بھی صریحا خلاف ورزی ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیاکہ یہ قانون سازی ’ہندوراشٹرا‘ کے تصور کو عملی شکل دینے کی طرف ایک اور بڑا قدم ہے۔ اس تصور کی تعبیر کے لئے دائیں بازو کے ہندو رہنما کئی دہائیوں سے سرگرم عمل ہیں۔ یہ ’ہندتوا‘ کی انتہاء پسندانہ سوچ اور خطے میں تسلط پسندانہ خیالات کا زہریلا میلاپ ہے۔ یہ مذہب کی بنیاد پر ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا واضح اظہار ہے جسے ہم قطعی طورپر مسترد کرتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے خود کو ہمسایہ ممالک میں ستائی ہوئی اقلیتوں کا گھر ظاہر کرنے کے دعوے بھی انتہائی قابل مذمت ہیں۔ گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام، سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحے، گائے کے محافظ جتھوں کے ہاتھوں لاتعداد لوگوں کاقتل، گھرواپسی اور ’جہاد سے پیار‘ کے نام سے شروع کی گئیں بدنام زمانہ سکیموں کے علاوہ مسیحیوں، سکھوں، جین اوردلت جیسے نچلی ذات کے ہندوں پر بہیمانہ تشدد انتہاپسند ہندو نظریات رکھنے والے حکمران طبقے کا اعزاز اورپہچان ہے۔

اسّی لاکھ بے گناہ اور نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم جاری ہیں، نو لاکھ سے زائد بھارتی قابض افواج ان پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں، یہ سب حقائق انتہاء پسند بھارتی ذہن کی پوری طرح تشریح اور تعارف پیش کرتے ہیں۔ ترجمان نے کہاکہ بھارتی قانون سازی نے ایک بار پھر بھارتی ’جمہوریت‘ اور ’سیکولرازم‘ کے کھوکھلے دعووں کو بے نقاب کردیا ہے۔ اکثریت کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے آر ایس ایس اور بی جے پی کی دیگر عقائد کے لوگوں کو نکال باہر پھینکنے والی سوچ پوری دنیا کے سامنے آچکی ہے اور مسلمانوں سے شدید نفرت کس درجے پر ہے، اس کا بھی واضح اظہار ہوچکا ہے۔ ہم اس امتیازی، جارحانہ اورجابرانہ قانون سازی کی مذمت کرتے ہیں جو تمام متعلقہ عالمی ضابطوں اور اقدار کی صریحا خلاف ورزی ہے اور ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت اور بدنیتی کی کھلی مثال ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…