اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

خون کے عطیہ دہندگان کو ‘شکریہ’ کا پیغام

datetime 15  جون‬‮  2015 |

لندن(نیوزڈیسک) سویڈن کی بلڈ سروس نے خون کے عطیہ دہندگان کے کردار کی اہمیت کےحوالے سے ایک حوصلہ افزا منصوبے کا آغاز کیا ہے۔سویڈن میں خون کا عطیہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے عطیہ دہندگان کو ابتدائی طور پر بذریعہ موبائل فون شکریہ کا متن موصول ہوتا ہے اور ایک دوسرا ٹیکسٹ پیغام اس وقت موصول ہوتا ہے جب ان کا خون کسی شخص کی زندگی بچانے میں کام آتا ہے۔اسٹاک ہوم میں بلڈ سروس میں مواصلات کی مینیجرکیرولینا بلوم وائی برگ نے اخبار انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ‘ہم مسلسل عطیہ دہندگان کی اہمیت کے اظہار کے لیے مختلف طریقوں سے کو ششیں کر رہے ہیں’۔انھوں نے کہا کہ اس ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے ہم عطیہ دہندگان کو ان کی کوشش کے بارے میں واپس بتانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہم نے ایک اچھا طریقہ تلاش کیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ کسی کی زندگی کو بچانا ایک عظیم احساس ہے اور اس سے ایک بڑا فرق پیدا ہوتا ہےحتیٰ کہ اس سے دوسروں کی مدد کا جذبہ ابھرتا ہے۔کیرولینا بلوم کے مطابق یہ ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کہ لوگوں کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ خون کا عطیہ کرنے میں ان کی شراکت کتنی اہم ہے۔سروس کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹ پیغامات سے عطیہ دہندگان کو مثبت سوچ ملتی ہے کہ وہ کس طرح سے دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں اور یہ بات انھیں دوبارہ عطیہ کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرتی ہے۔یہ منصوبہ اسٹاک ہوم میں پچھلے تین سالوں سے کامیابی سے چل رہا ہے اور آہستہ آہستہ ملک بھر میں عام ہوتا جارہا ہے۔اسٹاک ہوم میں یہ مہم سوشل میڈیا پر مقبول ثابت ہوئی ہے۔اسٹاک ہوم کے رہائشی مقامی بلڈ سروس کی ویب سائٹ پر جاکر ایک لائیو چارٹ کے ذریعے یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ وہاں خون کا کتنا ذخیرہ موجود ہے۔سروس کے مطابق بلڈ سروس کی یہ معلومات اندرونی سطح کی ہے لیکن عطیہ دہندگان کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے اسے بیرونی طور پر دکھایا جاتا ہے جبکہ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جب ہمارے پاس عطیہ شدہ خون کی قلت ہو تو وہ اسے ایک قومی مسئلہ سمجھیں اور پھر اس مسئلے کو سوشل میڈیا پر اٹھائیں۔سویڈن میں کئے جانے والے دیگر اقدامات میں کچھ علاقوں میں خون کے عطیہ دہندگان سے ایک فارم پر ان کے دستخط لیے جاتے ہیں کہ حکام کو انھیں ٹیکسٹ پیغام ای میل اور جارحانہ انداز میں پیغامات بھیجنے کی اجازت ہوگی مثلاً انھیں اس طرح کے پیغامات بھی بھیجے جاتے ہیں کہ ‘ہم اس وقت تک آپ کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے جب تک آپ اپنا خون عطیہ نہیں کریں گے’۔دنیا بھر میں 14جون کو منائے جانے والے ‘ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے’ کی مناسبت سے برطانیہ بھر میں اس ہفتے خون کے عطیہ کی ایک مہم چلائی گئی۔جون 8 سے 14 جون تک جاری رہنے والی نیشنل بلڈ ہفتہ بیداری بڑھانے کی مہم کے دوران درکار خون کے گروپ’ اے’ ،’ بی’ اور ‘او ‘کےحروف کو ملک بھرکی سڑکوں کے ناموں، دکانوں کے بورڈ، اہم مقامات اور عمارتوں کے ناموں میں سے نکال دیا گیایہ قومی مہم قومی صحت کی دیکھ بھال کے ادارے’ این ایچ ایس’ کی طرف سے شروع کی گئی جس میں ملک بھر سے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔این ایچ ایس بلڈ ٹرانسپلانٹ کے مطابق برطانیہ بھر میں خون دینے والے رضا کاروں کی تعداد میں پچھلی ایک دہائی میں 40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے لہذا اس ہفتے اہم شاہراہوں اور عمارتوں کے ناموں میں سے خون کے گروپوں اے، بی اور او کے حروف مٹا دیے گئے تاکہ درکار خون کی نمائندگی ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…