منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مہنگائی کنٹرول کرنے کے تمام دعوے دھرے کے دھرے ،جانتے ہیں ایک سال کے دوران کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا؟

datetime 4  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں 16.53 فیصد اضافہ ہوا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق نومبر میں افراطِ زر کی شرح میں نومبر 2018 کے مقابلے میں 12.28 فیصد اضافہ ہوا۔

جب کہ اکتوبر 2019 کے مقابلے میں مہنگائی 1.20 فیصد بڑھ گئی ہے اور کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران 16.53 فیصد اضافہ ہوا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گندم 18 فیصد، آٹا 17.41 فیصد، گوشت کی قیمت 10.40فیصد، مرغی 11.98 فیصد، مچھلی 11.33 فیصد، تازہ دودھ 8.11 فیصد مہنگا ہوا جب کہ خوردنی تیل 14.12 فیصد اور گھی کی قیمت میں 16.47 فیصد اضافہ ہوا۔اعداد و شمار کے مطابق مسور کی دال کی قیمت 18.20 فیصد، مونگ کی دال 56.89 فیصد، ماش کی دال 35.13 فیصد اور چنے کی دال 15 فیصد مہنگی ہوئی، ایک سال میں پیاز کی قیمت 159 فیصد اور ٹماٹر کی قیمت میں 376 فیصد کا اضافہ ہوا جب کہ دیگر تازہ سبزیاں بھی 37.73 فیصد مہنگی ہوگئیں۔وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ایک سال کے دوران مکانات کے کرائے 9.68 فیصد بڑھ گئے، بجلی کے بلوں میں اوسطا 3.68 فیصد، گیس کے نرخ 13.43 فیصد اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 30.90 فیصد اضافہ ہوا۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران ادویات کی قیمت میں 10.74 فیصد، طبی آلات کی قیمت 7.21 فیصد اور ڈاکٹروں کی فیس میں 13.33 فیصد اضافہ ہوا جب کہ لیبارٹری ٹیسٹ کی فیسوں میں 7.52 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اسی طرح موٹر وہیکل ٹیکس، پیٹرول اور گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات 7.21 فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…