جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

مارک زکربرگ نےفیس بک میں سیاسی اشتہارات کی پالیسی سے متعلق اہم ترین اعلان کر دیا

datetime 4  دسمبر‬‮  2019 |

نیویارک (این این آئی)فیس بک کو سیاستدانوں کی جانب سے اشتہارات کی پالیسی کے حوالے سے مسلسل تنقید کا سامنا رہا ہے مگر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے سیاسی اشتہارات پر پابندی نہ لگانے کا کہا ہے۔ایک امریکی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں مارک زکربرگ نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ سیاستدانوں کے بیانات پر

لوگوں کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ میں جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں، یہ بہت ضروری ہے کہ لوگ خود دیکھیں کہ سیاستدان کیا کہہ رہے ہیں، تاکہ وہ اپنا فیصلہ کرسکیں، مجھے نہیں لگتا کہ ایک پرائیویٹ کمپنی کو سیاستدانوں یا خبروں کو سنسر کرنا چاہیے۔مارک زکربرگ کی جانب سے کافی عرصے سے فیس بک کی سیاسی تقاریر کے حوالے سے متنازع حکمت عملی کا دفاع کیا جارہا ہے، جبکہ دوسری جانب فیس بک پر غلط معلومات کی ترسیل، نفرت انگیز تقاریر اور دیگر مواد کی روک تھام کے لیے دبائو بڑھ رہا ہے۔فیس بک کی سیاسی اشتہارات کی پالیسی پر تنقید کا نیا سلسلہ اکتوبر میں اس وقت شروع ہوا جب فیس بک نے ڈیموکریٹ جو بائیڈن کی صدارتی مہم کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک اشتہار کو ہٹانے سے انکار کردیا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس میں سابق نائب صدر کے بارے میں غلط معلومات دی گئی ہے۔فیس بک کی جانب سے سیاسی اشتہارات کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلیوں پر غور کیا جارہا ہے مگر اس کا موقف اس معاملے میں دیگر کمپنیوں سے مختلف ہے۔ٹوئٹر نے اکتوبر میں سیاسی اشتہارات پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا جبکہ گوگل نے نومبر میں کہا تھا کہ وہ انتخابی اشتہارات کو عمر، جنس اور پوسٹل کوڈ کے مطابق محدود حلقے کو دکھائے گا۔اس انٹرویو کے دوران مارک زکربرگ نے اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ڈنر کرنے کی خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات میں مختلف امور میں بات چیت کی گئی مگر یہ بات چیت نجی تھی۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…