جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

سی ڈی اے کے شعبہ ٹرانسپورٹ کی کرپشن کا پردہ چاک: سرکاری  لوڈر گاڑیوں کونجی امور کے لئے بے دریغ استعمال قومی خزانے کو ہر ماہ کتنےکروڑوں کا ٹیکا لگایا جاتا ہے ؟ اہم انکشافف

datetime 1  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)سی ڈی اے کے شعبہ ٹرانسپورٹ کی کرپشن کا پردہ چاک،شعبہ انفورسمنٹ کا عملہ سرکاری  لوڈر گاڑیوں کونجی امور کے لئے بے دریغ استعمال کرتے ہیں جس وجہ سے قومی خزانے کو ہر ماہ  پیٹرول ،ڈیزل ،گاڑیوں کی ڈینٹنگ پینٹنگ اور مکینکل کاموں کی مد میںمبینہ طور پرکروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے انفورسمنٹ کا عمل ہفتہ اتوار سرکاری گاڑیوں کو اپنے ذاتی استعمال میں

رکھ کر ان گاڑیوں کے ذریعے بجری ریت اور گھریلیو ساز و سامان کی لوڈ کرکے روزانہ ہزاروں روپے کی دیہاڑیاں لگاتے ہیں ذرائع نے بتایا کہ پرائیویٹ سامان کی لوڈنگ کے لئے شعبہ انفورسمنٹ کے روزانہ تین ٹرک اور ہفتہ اتوار 6ٹرک استعمال کئے جاتے ہیں افسران سے ملی بھگت کرتے ہوئے ڈرائیور چھٹی کے روز ہیڈ آفس سے گاڑیاں لے جاتے ہیں اور ان گاڑیوں کو اسلام آباد کے دیہی علاقوں ترلائی، علی پور، ترامڑی اور اس کے قریب و جوار علاقوں میںپرائیویٹ لوگوں کے گھریلیو سامان کے علاوہ ریت بجری اینٹیں بھی ان ہی ٹرکوں پر لوڈ کر کے گھروں تک پہنچائی جاتی ہیں اور اگر کوئی شکایت ہو جائے تو افسران یہ کہ کر خانہ پری ڈال دیتے ہیں کہ یہ ہمارے افسران کا سامان ہوتا ہے اور انہیں سرکاری طور پر ادارے کے ٹرک کرائے پر استعمال کرنے کی اجازت ہے اس غیرقانونی ٹرانسپورٹ کواپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہوئے سی ڈی اے کے شعبہ ٹرانسپورٹ افسران و ملازمین ہر ماہ کروڑوں روپے کا سرکاری پیٹرول ،گاڑیوں کے مکینکل پارٹس و فٹنگ کی مد میں غبن کیا جاتا ہے’  ‘‘آن لائن ‘‘کی خصوصی انسپیکشن کے مطابق سی ڈی اے کے شعبہ انفورسمنٹ کی گاڑی نمبرGE 685ICT aslamabadجو ترلائی کے علاقے سے ایک پرائیویٹ دکان سے گھریلیو استعمال کا سامان لوڈ کر رہی تھی اس ڈرائیور کے ساتھ عملے کے تین افراد مذیڈ لوڈنگ کا کام کر رہے تھے

انہوں نے ایک ٹرک بھر کر صبع کے تقریبا 11بجے پھیرا لگایا اور پھر 1بجے دوسرا ٹرک بھر اور 3بجے تیسرا اس طرح ان سرکاری ٹرکوں کو روزانہ استعمال میں لاے جاتا ہے  ٹرک ڈرائیور سے نام پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا کوئی نام نہیں جو کچھ کہنا ہے ہمارے ڈائریکٹر اظہر خورشید سے کہو   نے مظہرحسین ڈائریکٹر ایڈمن سے متعدد بار فون ملایا لیکن موصوف نے اپنا نمبر اٹینڈ نہیں کیا اس کے بعد

آن لائن نے ڈائریکٹرپی آر و ترجمان سی ڈی اے صفدرشاہ سے  موقف پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ کس بے دردی سے سرکاری گاڑیاں استعمال میں لائی جا رہی ہیں اگرکسی سی ڈی اے کے آفیسر کو اپنے زاتی کام کے لئے گاڑی چاہئے ہوتی ہے تو وہ بھی ادارے کو قانونی طور پر درخواست دیتا ہے اور ادارہ اس آفیسر سے کلومیٹر کے حساب سے رقم وصول کرتا ہے انہوں نے کہا کہ غیر قانونی ذریعے استعمال کرنے والے افسران و ڈرائیوروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…