جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

رنگ گورا کرنے والی ایپ تیار

datetime 15  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) ایشیائی خواتین کیلئے کم شکل و صورت کا مالک ہونا کسی سانحے سے کم نہیں ہوتا۔ اس کیلئے تین کریموں کا مکسچر سے لے پندرہ منٹ میں گورا کرنے والی بلیچ کریموں تک ان گنت مصنوعات مارکیٹ میں موجود ہیں تاہم اب ایک ایسی ایپ بھی سامنے آگئی ہے جس کی موجودگی میں ان کریموں کی ضرورت باقی نہ رہے گی بلکہ ایپ آپ کو خود ہی گورا کردکھائے گی۔ دراصل یہ ایپ بیوٹی پراڈکٹس تیار کرنے والے مشہور برانڈ ویزلین نے متعارف کروائی ہے اور اس کا مقصد مردوں کیلئے اپنے بیوٹی پراڈکٹس کی نمائش ہے۔ یہ ایپ بطور خاص فیس بک کیلئے ہے اور اس کی مدد سے فیس بک کی پروفائل پکچر کو گورا بنایا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ جنوبی ایشیا میں گورے رنگ کی اس قدر اہمیت ہے کہ اس کی بنیاد پر ہزاروں لڑکیوں ہاتھ پیلے ہونے کے انتظار میں بابل کی چوکھٹ پر ہی بوڑھی ہوجاتی ہیں۔ اس بارے میں 2009ئ میں شادی ڈاٹ کام نامی ڈیٹنگ ویب سائٹ پر شمالی بھارت کے تین صوبوں سے تعلق رکھنے والے 12 ہزار افراد سے ایک سروے کیا گیا۔ جس کے مطابق لوگ جب اپنا جیون ساتھی چنتے ہیں تو ان کی نظر میں جلد کی رنگت بھی ایک اہم معیار ہوتا ہے۔ ایک اور انٹرنیٹ سروے کے مطابق بھارت میں شادی کے لئے ساتھی چنتے وقت جلد کی رنگت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مزید پڑھئے:کینیڈا: پروں والے ڈائنا سور کا ڈھانچہ در یافت

ویزلین مین نامی اس کریم کے لئے تشہیری مہم بنانے والی اور اسی حوالے سے فیس بک ویزلین سکن وائٹننگ فیس بک اپلیکیشن متعارف کروانے والی کمپنی اومنی ڈاٹ کام کا کہنا ہے کہ ان کی اس مہم کے حیران کن نتائج سامنے آرہے ہیں اور انٹرنیٹ یوزرز تیزی سے اس ایپ کو ڈاﺅن لوڈ کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ بھارت میں گورے رنگ کا خبط صرف خواتین میں ہی نہیں ہے بلکہ یہ خبط مردوں میں بھی بے تحاشہ بڑھ چکا ہے۔ ملک میں مردوں کے لئے رنگ گورا کرنے والی مصنوعات سب سے پہلے سال 2005ئ میں امامی نامی کاسمیٹک کمپنی نے متعارف کرائی تھیں۔ جس کے بعد اب تک نصف درجن سے زائد کمپنیاں مردوں کے لئے رنگ گورا کرنے والی مصنوعات مارکیٹ میں لاچکی ہیں۔مذکورہ ایپ کو 2010 میں بھی لانچ کیا گیا تھا تاہم اس وقت یہ شدید تنقید کے باعث ایپ مقبول نہیں ہوسکی تھی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…