بدھ‬‮ ، 14 اکتوبر‬‮ 2026 

پولیو قطرے پلانے سے انکار, ایک جرم

datetime 14  جون‬‮  2015 |

کوئٹہ(نیوزڈیسک )بلوچستان حکومت نے انسداد پولیو کے حوالے سے مزید اقدامات کرتے ہوئے پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے سے انکار کو ’جرم‘ قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔صوبائی محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاو کی قطرے لازمی پلانے کے لئے ویکسینیشن ایکٹ کو بلوچستان اسمبلی میں جلد پیش کیا جائے گا۔اس ایکٹ کے تحت بچوں کو پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کو سزائیں بھی دی جائیں گی۔بلوچستان میں محکمہ صحت کے سیکرٹری نور الحق بلوچ نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ ’ہم صوبائی اسمبلی میں پولیو ویکسینیشن ایکٹ پیش کرنے کے لئے ایک مسودہ تشکیل دے رہے ہیں‘۔نورالحق کا کہنا ہے کہ جب تک والدین کی جانب سے انکار کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا اس وقت تک پولیو وائرس کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔صوبائی سیکرٹری کا کہنا ہے کہ ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے کی وجہ سے اس کے اطراف میں موجود 200 میٹرز تک تمام بچے اس وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’قطرے پلانے سے انکار کرنا جرم کے مترادف ہے‘۔خیال رہے کہ بلوچستان کے محکمہ صحت کی جانب سے کوئٹہ، قلعہ عبداللہ اور پشن کے 45 یونین کونسلز کو پولیو کے حوالے سے انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔صوبائی محکمہ صحت نے ان یونین کونسلز میں پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔صوبائی حکام کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری انسداد پولیو مہم کے دوران صوبے کے 90 فیصد والدین نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے ہیں جبکہ 10 فیصد والدین نے انکار کیا۔نورالحق کے مطابق حکومت نے انسداد پولیو مہم کے لئے بلوچستان کے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کامیاب ہونے والے یونین کونسلرز سے رابطے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کونسلرز اس حوالے سے محکمہ صحت کے حکام سے ماہانہ ملاقاتیں بھی کرے گے‘۔یاد رہے کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں پولیو وائرس کے خطرے کے پیش نظر ’ایمرجنسی‘ کا اعلان کیا جاچکا ہے۔سال 2011ءکے دوران بلوچستان بھر سے پولیو کے 73 کیسز رپورٹ ہوئے اور صوبائی محکمہ صحت، یونیسیف اور ڈبلو ایچ او کی مدد سے ان میں بتدریج کمی آئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…