جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

اعلان اسلام آباد

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

پاکستان میںتمام مذاہب و مسالک کی قیادت نے ناروے میں قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کے واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پرقیام امن کے لیے اور اسلامو فوبیا کے خلاف تمام مذاہب و مسالک کے قائدین پر مشتمل’’ ورلڈ پیس کونسل‘‘ کے قیام کا اعلان کردیا۔ناروے حکومت مجرم کو قرار واقعی سزا دے اور بین الاقوامی سطح پر تمام آسمانی مذاہب کی حرمت کے تحفظ کا قانون بنایا جائے۔ 29

نومبر کو ملک بھر میں عظمت قرآن کے موضوع پر خطبہ جمعہ دئیے جائیں گے اور ناروے واقعہ کے خلاف پرامن مظاہرے و احتجاج کیا جائے گا ۔ یہ بات پاکستان علماء کونسل اسلام آباد کے زیر اہتمام تمام مذاہب و مسالک کے قائدین کے مشترکہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی ، علامہ محمد حسین اکبر ، علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ، مولانا اسد اللہ فاروق، علامہ سجاد نقوی ، علامہ اسید الرحمان سعید ، مولانا محمد اشفاق پتافی ، بشپ اسحاق مظہر ، سہیل رضا ، مولانا نعمان حاشر ، مولانا قاسم قاسمی ، مولانا طاہر عقیل ، مولانا عمار بلوچ ، پادری ندیم کامران ، ساجد الحق ، مفتی حفیظ الرحمان ، مولانا محمد الیاس ، مولانا نائب خان ، بشپ فرخ جاوید ، مولانا شہباز احمد ، مولانا افضل حسینی ، خواجہ وجاہت جمیل (عیدگاہ شریف راولپنڈی )، سردار بشن سنگھ ، پادری سموئیل کھوکھر نے کہا کہ ناروے میں قرآن کریم جلانے کا واقعہ افسوسناک ہے، ناروے حکومت کی طرف سے مجرم کی گرفتاری اور قانون سازی درست سمت قدم ہے۔ یورپی یونین اور اقوام متحدہ میں آسمانی مذاہب کے مقدسات کے احترام کا قانون وقت کی ضرورت ہے ۔ حکومت پاکستان کو اس معاملے میں فوری طور پر اقدامات اٹھانے چاہئیں اور اسلامی سربراہی کانفرنس کو موثر انداز میں قانون سازی کے لیے بروقت اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ رہنمائوں نے کہا کہ ناروے کی حکومت اور یورپی یونین کو اس قسم کے ناپاک اقدامات کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات اٹھانے چاہئیں،

آزادی اظہار کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین کی جائے، رہنمائوں نے کہا کہ اسلام ، امن و سلامتی کا دین ہے ، اسلام انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کا درس دیتا ہے ، قرآن کریم اصلاح انسانیت کیلئے اللہ کریم کی نازل کردہ آخری کتاب ہے ، قرآن کریم امن ،سلامتی ، اعتدال کا درس دیتا ہے ، قرآن کریم کو جلانے کی جسارت کرنے والے امن سلامتی کے دشمن ہیں، تمام مذاہب اور مسالک کے قائدین پر لازم ہے

کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرتیں پھیلانے والوں کو بے نقاب کریں۔رہنمائوں نے کہا کہ قرآن کریم کی توہین کرنے والے کسی مذہب و مسلک کے نمائندے نہیں ہیں، مختلف مذاہب و مسالک کے مقدسات کی توہین کرنے والے انتہا پسنداور دہشت گرد ہیں۔ رہنمائوں نے اعلان کیا کہ 29نومبر کو ملک بھر میں عظمت قرآن کے موضوع پر خطبہ جمعہ دئیے جائیں گے اور ناروے واقعہ کے خلاف پرامن مظاہرے و احتجاج کیا جائے گا ۔ رہنمائوں نے

ہندوستان میں بابری مسجد کی شہادت کے سانحہ پر عدالتی فیصلہ اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم اور کرفیو کے 108دن گزرنے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر و فلسطین امت مسلمہ کے مسئلے ہیںاور ہندوستان و اسرائیل مسلمانوں اور مسیحیوں کے ساتھ جو ظلم کر رہا ہے اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔ رہنمائوں نے وحدت امت کو تمام مسائل کا حل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور عرب کے درمیان تعلقات لازووال

ہیں ارض حرمین شریفین مسلم امہ کی وحدت اور اتحاد کا مرکز ہیں۔ مملکت سعودی عرب ودیگر اسلامی ممالک کے بغیر کوئی اجتماع بھی وحدت امت کا سبب نہیں بنے گابلکہ اس سے انتشار پیدا ہوگا اسلامی ممالک میں مفاہمت کے لیے جنرل قمر جاوید باجوہ اور عمران خان کا کردار قابل تحسین ہے۔ اور مسلم قائدین کو ان کوششوں کو عملی شکل دینی چاہیے ۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 26نومبر کو فیصل آباد میں تمام مذاہب و مسالک کا مشترکہ اجلاس

ہوگا۔ اعلان میں کہا گیا کہ ناروے کا واقعہ ایک شدت پسند گروہ کا عمل ہے جس کا کسی بھی مسلک و مذہب سے تعلق نہیںاور ناروے حکومت کی طرف سے مجرم کے خلاف کارروائی اور ناروے میں مقدس کتابوں بالخصوص قرآن کریم کے تقدس کی پامالی کے خلاف قانون سازی کا اعلان درست سمت قدم ہے۔

اعلامیہ میں حکومت پاکستان کی طرف سے ناروے کے مسئلہ پر موقف کو اہل پاکستان کی ترجمانی قرار دیا گیا ۔ حکومت پاکستان کو اقوام متحدہ میں وزیر اعظم کی تقریر کے مطابق ناموس رسالت اور مقدسات کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر قانون سازی کو ممکن بنایا جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…