جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر تنقید کیوں کی؟ پاکستان برہم، امریکی بیان مسترد، دھماکہ خیزاعلان کردیا

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

ملتان (این این آئی)پاکستان نے ایک بار پھر سی پیک پر امریکی بیان مسترد کر تے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکی حکام کے بیان سے منصوبے پر کوئی ا ثر نہیں پڑے گا، سی پیک کے منصوبے جاری ہیں اور جاری رہیں گے،امریکا سمیت جو بھی اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کرنا چاہتا ہے کرے،قرآن مجید کی بے حرمتی کے واقعہ پر ناروے کے سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا گیا ہے، معاملے پر ہمیں سخت تشویش ہے،قرآن کے بے حرمتی کرنے والے کو قرارواقعی سزا دی جائے،

مسئلہ کشمیر پر سیاسی جماعتوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے، ملک میں کوئی بھی احتسابی عمل سے نہیں گزرنا چاہتا،سندھ حکومت احتساب کے عمل میں ڈھال بن رہی تھی، اس لیے زرداری صاحب کا کیس راولپنڈی منتقل کیا گیا، نوازشریف کے حوالے سے وزارت صحت بہتر جواب دے سکتی ہے، بیرون ملک جانے کی خواہشات سب کی ہیں۔ اتوار کو یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ہٹ دھرمی جاری ہے، مقبوضہ وادی میں کرفیو کو112روز گزر چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کے مسئلے سیاسی جماعتوں سے کوئی اختلاف رائے نہیں، امریکی کانگریس میں مسئلہ کشمیر بھرپور طریقے سے اٹھایا گیا ہے، ایوان نمائندگان کی رکن راشدہ طالب نے امریکی کانگریس میں قرارداد پیش کی ہے۔انہوں نے کہاکہ یورپی یونین میں بھی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا گیا ہے، ہماری داخلی صورتحال کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے مقبوضہ کشمیر سے میڈیا کی نظر اٹھ گئی تھی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی اموات کے اعداد و شمار بھی جاری نہیں کئے جاتے اس حوالے سے امریکی کانگریس کے رکن بریڈشرمین نے مقبوضہ کشمیر پر بریفنگ کا مطالبہ کیا ہے، بریڈ شرمین کا کہنا ہے کہ یورپی وفد کو مقبوضہ کشمیر لے جایا جا سکتا ہے تو امریکیوں کو کیوں اجازت نہیں؟۔شاہ محمود نے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو پھر سے اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کشمیر کمیٹی چیئرمین فخر امام اور عسکری حکام نے صورت حال سے آگاہ کیا،

اب وزارت خارجہ میں اہم اجلاس بلایا جائے گا جس کی صدارت کے لیے وزیر اعظم سے درخواست کی جائے گی، اجلاس میں وزیر اعظم کو آئندہ کی حکمت عملی سے آگاہ کیا جائے گا۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ میں بھی دیر سے ہی صحیح مگر معاملہ اٹھا ہے، جس نے تقاضا کیا کہ بھارتی حکومت کشمیر پر مؤقف پیش کرے، لیکن بھارتی حکومت اپنی ہی عدالت میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ میڈیا سے بھی گزارش ہے مسئلہ کشمیر سے نظر نہیں اٹھانی چاہیے۔

مقبوضہ کشمیر میں جو شہادتیں ہو رہی ہیں ان کا سرٹیفکیٹ بھی جاری نہیں کیا جاتا، شہادتوں کی تعداد پر میڈیا کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے حقائق دنیا سے چھپائے جا رہے ہیں،  یو ایس ڈپلومیٹ کو بھی کشمیر جانے کی اجازت ملنی چاہیے۔قرآن پاک کی بے حرمتی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ناروے واقعہ سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے، گزشتہ روز دفتر خارجہ میں ناروے کے سفیر کو بلایا اور انہیں اپنی تشویش اور اضطراب سے آگاہ کیا۔ ناروے حکومت سے مطالبہ کیا ہے قرآن کے بے حرمتی کرنے والے کو قرارواقعی سزا دی جائے۔سی پیک کے حوالے سے امریکی تحفظات پر وزیرخارجہ نے کہا کہ سی پیک گیم چینجر ہے، یہ کہہ دینا سی پیک سے ہمارے قرضوں میں اضافہ ہو گا درست نہیں، ہم ان کی رائے سے متفق نہیں،

امریکا سمیت جو بھی اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کرنا چاہتا ہے کرے۔میگا منی لانڈرنگ اسکینڈل کی سماعت کراچی کے بجائے راوالپنڈی میں کرنے سے متعلق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سندھ کی حکومت آصف زرداری کے تابع ہے، آصف زرداری کا کیس اس لیے راولپنڈی منتقل کیا گیا کیونکہ سندھ حکومت انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہی تھی۔وزیرخارجہ نے کہا کہ نوازشریف کے حوالے سے وزارت صحت بہتر جواب دے سکتی ہے، بیرون ملک جانے کی خواہشات سب کی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ  ہمارے ملک میں کوئی بھی احتسابی عمل سے نہیں گزرنا چاہتا،احتساب کے عمل میں مختلف حیلے بہانوں سے رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں،مافیا احتسابی عمل میں رکاوٹیں ڈالتا رہتا ہے، وزیراعظم عمران خان احتسابی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے پرعزم ہیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو اسلام آباد سے کیا دے کر بھیجا گیا، یہ مولانا ہی بتا سکتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…