اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

پروین شاکر کی 67ویں سالگرہ پر گوگل کا خراج تحسین

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی) خوشبوؤں، خوابوں اور محبتوں کو اپنی شاعری کے قالب میں ڈھالنے والی پروین شاکر کی 67 ویں سالگرہ پر گوگل نے انہیں ڈوڈل کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا ہے۔24 نومبر 1954 کو کراچی میں پیدا ہونے والی پروین شاکرنے جس گھر میں آنکھ کھولی وہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا۔ ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے جس کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں ہی کئی شعراء کے

کلام سے روشناس ہوئیں۔ جامعہ کراچی سے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوگئیں تاہم بعد میں انہوں نے سرکاری ملازمت اختیار کرلی اور ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انتہائی کم عمری میں ہی انہوں نے شعر گوئی شروع کردی تھی۔انھیں شاعری کی پہلی کتاب ’’خوشبو‘‘ پرآدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کے دیگر شعری مجموعے خود کلامی، صد برگ، انکار، ماہ تمام اور کف آئینہ کو بھی بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ اردو لہجے کی منفرد شاعرہ ہونے کی وجہ سے پروین شاکر کو بہت ہی کم عرصے میں شہرت حاصل ہو گئی۔ پروین شاکر کے لیے ایک انوکھا اعزاز یہ بھی تھا کہ 1982 میں جب وہ سینٹرل سپیریئر سروسز کے امتحان میں بیٹھیں تو اردو کے امتحان میں ایک سوال ان کی شاعری سے ہی متعلق تھا۔پروین شاکرکی پوری شاعری ان کے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار ہے تاہم یہ پوری ایک نسل کی نمائندگی کرتی ہے کیونکہ ان کی شاعری کا مرکزی نکتہ عورت ہے۔ ان کے کلام میں ایک نوجوان دوشیزہ کے شوخ و شنگ جذبات کا اظہارہے تو زندگی کی سختی کا اظہار بھی ملتا ہے۔پروین شاکر کے اشعار میں لوک گیت کی سادگی جبکہ نظموں اورغزلوں میں بھولے پن اور نفاست کا دل آویزسنگم ہے۔ ان کی شاعری میں احساس کی جو شدت ہے وہ ان کی دیگر ہم عصر شاعرات کے یہاں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کو نہایت خوبصورتی سے لفظوں کے قالب میں ڈھالا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…