بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

حکومت کا رمضان میں ’ریلیف پیکج‘ دینے کا فیصلہ

datetime 14  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )حکومت نے ماہ رمضان المبارک کے دوران ملک بھر کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر فروخت ہونے والی روز مرہ استعمال کی 18 ضروری اشیاء پر ڈیڑھ ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اس سبسڈی کو ’رمضان ریلیف پیکج 2015ئ ‘ کا نام دیا ہے جس پر پہلی رمضان المبارک یا 17 اور 18 جون سے عمل درآمد شروع ہوگا۔یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے حکام کا کہنا ہے کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے منظور کردہ رمضان ریلیف پیکج 2015ئ چاند رات تک جاری رہے گا۔حکام کے مطابق پیکج پرعمل درآمد کیلئے تیاری آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے جو کہ ملک بھر کے تمام چھ ہزار یوٹیلٹی اسٹورز پر فروخت ہونے والی 18 اشیائ پرسبسڈی کی صورت میں دی جائیگی۔حکام نے بتایا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران یوٹیلٹی اسٹورز پر فروخت ہونے والی چینی پر فی کلو پانچ روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔رمضان ریلیف پیکچ کے تحت گھی، تیل پر فی کلو آٹھ روپے، دال چنا، دال مونگ، دال مسور، سفید چنا، بیسن اور کھجور پر دس روپے فی کلو سبسڈی دی جائیگی۔اسی طرح باستمی چاول، سہلا چاول اور ٹوٹا چاول پر فی کلو پانچ روپے سبسڈی جبکہ بلیک چائے پر فی کلو پچاس روپے اور مشروبات کے 1500 ملی لیٹر پر دس روپے سبسڈی دی جارہی ہے۔پیکچ کے تحت فی لیٹر دودھ پر دس روپے اور مصالحہ جات پر دس فیصد سبسڈی دی جائیگی۔حکام کا کہنا ہے کہ رمضان ریلیف پیکچ کے تحت سیل کا ہدف بیس ارب روپے مقرر کیا گیا ہے تاہم مجموعی سیل 15 سے 18 ارب روپے ہوسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…