جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

وفاقی وزیر بنتے ہی اسد عمر نے قوم کو خوشخبری سنا دی ، اہم بیان سامنے آگیا

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ مسلسل اقدامات سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہونا شروع ہوئی جس کے بعد اب پائیدار ترقی اور نوکریاں مہیا کرنے کا مقصد حاصل ہو پائیگا۔ٹوئٹر پر جاری بیان میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ اکتوبرکے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ 9کروڑ 90 لاکھ ڈالر سر پلس رہا ۔

ستمبر کے مہینے میں خسارہ 28 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھا، رواں سال کے پہلے چار ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب 47 کروڑ ڈالر رہا۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 5 ارب 57 کروڑ ڈالر تھا اور مالی سال 19۔2018 کے دوران یہ خسارہ 13 ارب 83 کروڑ ڈالر تھا جب کہ مالی سال 18۔2017 میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ 19 ارب 90 کروڑ ڈالر تھا۔عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ ساڑھے چار سال بعد سر پلس ہوا ہے، مارچ 2015 میں کرنٹ اکاؤنٹ تقریبا 52 کروڑ ڈالر سر پلس تھا۔دوسری جانب مشیر خزانہ کے بیان پر رد عمل میں اسد عمر نے کہاکہ 4 سال کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ کا سرپلس ہونا اچھی بات ہے، مسلسل اقدامات سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہونا شروع ہوئی، اب پائیدار ترقی اور نوکریاں مہیا کرنے کا مقصد حاصل ہو پائے گا۔اس سے پہلے اسد عمر نے وفاقی وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھالیا جہاں ایوانِ صدر میں صدر مملکت عارف علوی نے ان سے حلف لیا۔اسد عمر کو کابینہ میں منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات کا قلمدان سونپا گیا ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے گزشتہ روز اسد عمر کی کابینہ میں شمولیت کی اطلاع دی تھی ۔

جب کہ وزیراعظم نے وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار کا قلمدان تبدیل کرتے ہوئے انہیں پیٹرولیم کی وزارت سونپی ہے۔یاد رہے کہ اسد عمر تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد بننے والی پہلی کابینہ میں وزیر خزانہ تھے تاہم عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ پیکج کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں ڈیڈلاک کے باعث انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد سے وزیر خزانہ کا قلمدان خالی ہے اور اس وقت عبدالحفیظ شیخ وزیر اعظم کے مشیر خزانہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھارہے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…