ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

بلوچستان حکومت کو واٹس ایپ گروپ کے ذریعے چلائے جانے کا انکشاف، حیران کن دعویٰ کر دیا گیا

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

تمبو(آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و سابق سینیٹر نوابزادہ لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت کو ایک سلیکٹڈ وزیراعلیٰ 70 واٹس ایپ گروپ کے ذریعے چلا رہا ہے ایسے سلیکٹڈ لوگ بلوچستان کے مفادات کا سودا کر رہے ہیں ان کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی اور ان کے حکومت کی کارکردگی بھی صفر ہے صوبہ بلوچستان ہردور میں پسماندگی کاشکار رہا ہے

موجودہ حکومت نے ظلم کی انتہاکرتے ہوئے نصیرآباد کی تحصیل باباکوٹ میں صدیوں سے آبادمختلف اقوام سے ان کی زرعی زمین چھین کربے گھر کرنے کی کوشش کررہی ہے جس کی ہم ہرگزاجازت نہیں دیں اور ہرفورم پر ان کی آواز بلندکرتے رہیں گے ان خیالات کااظہارانہوں نے ڈیرہ مراد جمالی میں سردار فتح علی خان عمرانی کی رہائش گاہ پر بابا غلام رسول عمرانی کی جانب سے دئے گئے ظہرانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سردارزادہ بابا غلام رسول خان عمرانی،سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد اور بی این پی کے رہنما میر خدا بخش بنگلزئی،ندیم رئیسانی و دیگر بھی موجود تھے لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ ہم وفاقی حکومت کی مشروط حمایت کر رہے ہیں ہمارے 6 نکات ہیں جن پر ان کو عمل درآمد کرنا ہے ہم اپنی جماعت کی بجائے بلوچستان کے اجتماعی مفادات کیلیئے جدوجہد کر رہے ہیں وفاقی حکومت اب تک ہمارے مطالبے پر 400 کے لگ بھگ لاپتہ اور گمشدہ افراد کو واپس کر چکی ہے جس سے ان کے گھروں میں خوشیاں لوٹ آئی ہیں تاہم انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ گمشدگی اور لاپتہ کرنے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے بلکہ وہ اب بھی جاری ہے شاید وفاقی حکومت بااختیار نہیں ہے اس لیئے بلوچستان سے سیاسی کارکنوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند نہیں ہوا ہے جو کہ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے اگر کسی پر مقدمہ ہے تو ان کو لاپتہ کرنے کے بجائے عدالتوں میں پیش کیا جائے

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں بی این پی بلوچستان کے مفادات کو دیکھ کر فیصلہ کرے گی میں پارٹی کے ڈسپلن کا پابند ہوں اگر میرے ہاتھ اٹھانے سے پارٹی کاز کو فائدہ پہنچتا ہے تو مجھے خوشی ہوگی انہوں نے کہا کہ کوسٹل ہائی وے اتھارٹی کے الگ قیام کی ہم مذمت کرتے ہیں جبکہ گوادر کیلیئے خصوصی قانون ساز کی ضرورت ہے تاکہ بلوچستان کے مقامی لوگوں کا اس کے ساحل اور وسائل پر مکمل اختیار ہو انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے قدیم آباد کاروں کو لوکل قرار دیا جائے اس کے علاوہ بنائے گئے تمام لوکل اور ڈومیسائلز کو دوبارہ چیک کیا جائے جعلی لوکل اور ڈومیسائلز کومنسوخ کیا جائے وفاق میں بلوچستان کے 6 فیصد کوٹے پر عمل درآمد کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…