جمعہ‬‮ ، 17 اپریل‬‮ 2026 

حکومت نے شریف فیملی سے پونے چار ارب روپے کے شورٹی بانڈ کی شرط رکھ دی، یہ اجازت دے یا نہ دے، کھانے کے لیے چٹنی یا اچار کی شرط رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ حکومت کو اس قسم کے نادر مشورے کون دے رہا ہے؟کیا حکومت مولانا فضل الرحمان کے پلان بی کیلئے تیار ہے؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

ریاست کے تین ستون ہوتے ہیں‘ پارلیمنٹ‘ جوڈیشری اور ایگزیکٹو‘ پارلیمنٹ کا کام قانون بنانا ہوتا ہے‘ عدلیہ اس قانون کی تشریح کرتی ہے اور اس کے مطابق فیصلے کرتی ہے جبکہ انتظامیہ کا کام پارلیمنٹ اور عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد ہوتا ہے‘ یہ تینوں ستون اگر اپنی جگہ رہ کر کام کرتے رہیں

تو ریاست چلتی رہتی ہے لیکن اگر یہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں یا اپنا کام چھوڑ کر دوسرے کا کام شروع کر دیں تو ریاست کا ڈھانچہ بیٹھ جاتا ہے‘ ہماری موجودہ حکومت بار بار یہ غلطی کر رہی ہے، میاں نواز شریف کو علاج کے لیے باہر بھجوانے کا ایشو کابینہ میں پیش ہوا‘ حکومت نے شریف فیملی سے پونے چار ارب روپے کے شورٹی بانڈ کی شرط رکھ دی‘ یہ پاکستان کی ہسٹری میں اس نوعیت کا پہلا فیصلہ ہے‘ زر ضمانت‘ شورٹی بانڈز یا مچلکے عدالتیں لیا کرتی ہیں‘ یہ ایگزیکٹوز یا کابینہ کا کام نہیں ہوتا لہٰذا کابینہ شورٹی بانڈ لینے کے بعد عدالت بن جائے گی اور یہ ایک نئے قانونی اور آئینی بحران کا نقطہ آغاز ہو گا‘ حکومت کو یہ بحران پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے‘ یہ اجازت دے یا نہ دے‘ یہ اگر‘ مگر‘ چونکہ‘ چنانچہ کرنے کی کیا ضرورت ہے‘ کھانے کے لیے چٹنی یا اچار کی شرط رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ حکومت کو اس قسم کے نادر مشورے کون دے رہا ہے، مولانا فضل الرحمن اپنا پلان بی شروع کر رہے ہیں، یہ پورے ملک کی مرکزی شاہراہیں بھی بند کریں گے اور تجارتی راستے بھی‘ کیا حکومت اس کے لیے تیار ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…