جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے شریف فیملی سے پونے چار ارب روپے کے شورٹی بانڈ کی شرط رکھ دی، یہ اجازت دے یا نہ دے، کھانے کے لیے چٹنی یا اچار کی شرط رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ حکومت کو اس قسم کے نادر مشورے کون دے رہا ہے؟کیا حکومت مولانا فضل الرحمان کے پلان بی کیلئے تیار ہے؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

ریاست کے تین ستون ہوتے ہیں‘ پارلیمنٹ‘ جوڈیشری اور ایگزیکٹو‘ پارلیمنٹ کا کام قانون بنانا ہوتا ہے‘ عدلیہ اس قانون کی تشریح کرتی ہے اور اس کے مطابق فیصلے کرتی ہے جبکہ انتظامیہ کا کام پارلیمنٹ اور عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد ہوتا ہے‘ یہ تینوں ستون اگر اپنی جگہ رہ کر کام کرتے رہیں

تو ریاست چلتی رہتی ہے لیکن اگر یہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں یا اپنا کام چھوڑ کر دوسرے کا کام شروع کر دیں تو ریاست کا ڈھانچہ بیٹھ جاتا ہے‘ ہماری موجودہ حکومت بار بار یہ غلطی کر رہی ہے، میاں نواز شریف کو علاج کے لیے باہر بھجوانے کا ایشو کابینہ میں پیش ہوا‘ حکومت نے شریف فیملی سے پونے چار ارب روپے کے شورٹی بانڈ کی شرط رکھ دی‘ یہ پاکستان کی ہسٹری میں اس نوعیت کا پہلا فیصلہ ہے‘ زر ضمانت‘ شورٹی بانڈز یا مچلکے عدالتیں لیا کرتی ہیں‘ یہ ایگزیکٹوز یا کابینہ کا کام نہیں ہوتا لہٰذا کابینہ شورٹی بانڈ لینے کے بعد عدالت بن جائے گی اور یہ ایک نئے قانونی اور آئینی بحران کا نقطہ آغاز ہو گا‘ حکومت کو یہ بحران پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے‘ یہ اجازت دے یا نہ دے‘ یہ اگر‘ مگر‘ چونکہ‘ چنانچہ کرنے کی کیا ضرورت ہے‘ کھانے کے لیے چٹنی یا اچار کی شرط رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ حکومت کو اس قسم کے نادر مشورے کون دے رہا ہے، مولانا فضل الرحمن اپنا پلان بی شروع کر رہے ہیں، یہ پورے ملک کی مرکزی شاہراہیں بھی بند کریں گے اور تجارتی راستے بھی‘ کیا حکومت اس کے لیے تیار ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…