ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

لاپتہ افراد قومی کمیشن نے 31اکتوبرتک کتنے کیسز نمٹا دئیے؟ عزیز و اقارب کی کمیشن کے چیئرمین کی کوششوں کی تعریف

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)لاپتہ افراد کیلئے قائم قومی کمیشن نے 31اکتوبر2019 تک 4203 کیسز نمٹا دیئے۔ لاپتہ افراد کیلئے قائم قومی کمیشن کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی ذاتی کوششوں کے نتیجہ میں یہ نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔

لاپتہ افراد کے انکوائری کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2019 کے دوران 59کیسز موصول ہوئے۔جس کے بعد جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق کیسز کی تعداد مجموعی6431 ہو گئی جن میں سے لاپتہ افراد کے لئے قائم قومی کمیشن نے31 اکتوبر 2019 تک 4203 کیسز نمٹا دیئے۔لاپتہ افراد کے انکوائری کمیشن نے اکتوبر2019کے مہینے میں 720سماعتیں کیں جن میں سے اسلام آباد میں 311سماعتیں، کراچی میں 249, پشاورمیں 77 او ر لاہورمیں 83سماعتیں کی گئیں۔لاپتہ افراد کے لئے قائم قومی میشن کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال اور دیگر ممبران نے اکتوبر 2019تک 4203 لاپتہ افراد کے کیسز نمٹا دیئے۔ اس سارے عمل کے دوران کمیشن کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال اور دیگر ممبران نے نہ صرف لاپتہ فرد کی فیملی کا مؤقف ذاتی طور پر سنا بلکہ ان کی جلد بازیابی کیلئے بھی بھرپور کوششیں کیں۔ لاپتہ افراد کے عزیز و اقارب نے بھی کمیشن کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال کی گرانقدر کوششوں کو سراہا۔ جسٹس جاوید اقبال جبری طور پر لاپتہ افراد کے کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے نہ صرف سرکاری وسائل استعمال نہیں کرتے ہیں بلکہ لاپتہ افراد کے قومی کمیشن کے کی حیثیت سے اپنے عہدے کی تنخواہ بھی نہیں لیتے اور اس کو قومی خدمت کے طور پر اپنے فرائض منصبی سر انجام دے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…