جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

شدید فاقہ کشی والے ورزشی منصوبے موٹاپا کم کرنے میں معاون ثابت ہو تاہے

datetime 13  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) عام خیال یہی ہے کہ اعتدال پسندی کا فارمولہ موثر ڈائیٹنگ کیلئے ضروری ہے، دوسری صورت میں ڈائیٹنگ کے اثرات، یہ عادت ترک کرتے ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ یونیورسٹی آف سڈنی کے ماہرین نے تحقیق سے اس خیال کی نفی کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ سخت ڈائیٹنگ یا نیم فاقہ کشی ڈائیٹنگ کو موثر بنانے میں نہ صرف معاون ہوتی ہے بلکہ اس کے اثرات بھی دیرپا ہوتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ کم توانائی فراہم کرنے والے ڈائیٹنگ پروگرامز جن میں کھانے کی جگہ پر عام طور پر پروٹین شیکس وغیرہ استعمال کئے جاتے ہیں، ڈائیٹنگ کیلئے بے حد معاون ثابت ہوتے ہیں۔
تاحال ماہرین نے کھانا ترک کرتے ہوئے لیکوئیڈز پر مشتمل ڈائیٹنگ پروگرامز کی ہمیشہ نفی کی ہے کیونکہ یہی خیال کیا جاتا ہے کہ ایسے پروگرامز کھانے پینے کی عادت کو مزید بگاڑ کے خراب کرتے ہیں تاہم یونیورسٹی آف سڈنی سے تعلق رکھنے والی چارلز پرکنز سنٹر سے تعلق رکھنے والی ایسوسی ایٹ پروفیسر امانڈا سیلز کہتی ہیں کہ عام خیال کے برعکس ڈائیٹنگ کے طریقہ کار پر جتنی بھی تحقیقات کی گئی ہیں، ان تمام سے یہی معلوم ہوا کہ کھانے پینے میں بے احتیاطی کرنے والے افراد جب ڈائیٹنگ شروع کرتے ہیں تو اپنے کھانے پینے کے معمولات کو بہتر بنا لیتے ہیں۔ یہ سلسلہ ڈائیٹنگ چھوڑنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ موٹے افراد جو کہ ڈائیٹنگ سے قبل بھی کھانے پینے کے معاملات میں لاپرواہ نہیں تھے، وہ ڈائیٹنگ چھوڑنے کے بعد بھی کسی قسم کی لاپرواہی اختیار نہیں کرتے ہیں۔ صرف ناقص معیار کی چند تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ دس سے پندرہ فیصد ڈائیٹرز ڈائیٹنگ ترک کرنے کے بعد کھانے پینے میں احتیاط پسندی سے کام لینا ترک کردیتے ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ باقاعدہ ماہرین کی نگرانی میں مکمل کئے جانے والے ڈائیٹنگ منصوبے زیادہ کامیاب رہتے ہیں۔ خاص کر ماہرین کی نگرانی میں لو انرجی ڈائیٹنگ پروگرامز پر عمل درآمد موٹاپے کیخلاف زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے۔ عام طور پر لو انرجی ڈائیٹنگ پروگرامز میں موٹاپا کم کرنے کے خواہشمند افراد تین ہزار کیلوریز جو کہ ان کے جسم کی اصل ضرورت ہوتی ہیں، اس سے پچیسس سے پچاس فیصد تک کم کیلوریز کی حامل خوراک لیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…