جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت کیخلاف احتجاج کب تک جاری رہے گا ؟اندر کی خبر سامنے آگئی

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے کہاہے کہ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے تب تک یہ احتجاج جاری رہے گا،یہ احتجاج اتنے آسانی سے نہیں ختم کیا جا سکتا، اور نا نہیں جانے والے ہیں،موجودہ حکومت کا جنازہ لے کر جائیں گے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف )خیبرپختونخواہ کے امیر مولانا عطاء الرحمان نے آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کچھ باتیں ہماری کانوں تک پہنچ رہی ہیں کہ یہ لوگ آزادی مارچ ختم کر رہے ہیں،میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے تب تک یہ احتجاج جاری رہے گا۔ انہوںنے کہاکہ یہ احتجاج اتنے آسانی سے نہیں ختم کیا جا سکتا، اور نا نہیں جانے والے ہیں،موجودہ حکومت کا جنازہ لے کر جائیں گے،ہم اپنے بچوں کے سروں پر ہاتھ رکھ کر آئے ہیں کہ یا یہ رہیں گے یا ہم رہے گے۔ انہوںنے کہاکہ ایک ادارے نے کہا کہ کس ادارے کا نام لیا جا رہا ہے،ہم کہتے ہیں آپ اس عوام کے محافظ اور ملازم ہو، ہم یہ غیر جمہوری حکومت رہنے نہیں دیں گے۔ انہوںنے کہاکہ بعض لوگ کہتے ہیں ہمارے لوگ کمزور پڑ رہے ہیں،ہمارے لوگ ہمت اور حوصلے کے ساتھ بیٹھے ہیں، حکومت کو گھر بھیجنے تک احتجاج جاری رہے گا،ہم حکومت کو گھر بھیج کر دم لیں گے۔ انہوںنے کہاکہ پورے اسلام آباد کو لاک ڈائون کریں گے،اگر ایک سال تک پورے ملک کی شاہراہوں کو بند کرنا ہو تو بند کر کے دکھائیں گے،قائدین نے حکم کیا تو ہم پارلیمنٹ کی اینٹیں بھی اکھاڑ کر رکھ دیں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…