بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کے سب سے بڑے ایٹمی پلانٹ پر حملہ،بھارتی حکام  نے تصدیق کردی،بڑے نقصان کا سامنا

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت کے سب سے بڑے ایٹمی پلانٹ کے نیٹ ورک پر ہیکرز نے حملہ کرکے اس کے کمپیوٹرز کو نقصان پہنچادیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھارت کی نیوکلیئر پاور پلانٹ کارپوریشن نے امکان ظاہر کیا کہ پاور پلانٹ کے کمپیوٹر میں موجود وائرس کا تعلق شمالی کوریا سے ہوسکتا ہے، یہ گزشتہ ماہ سامنے آیا جس کی تحقیقات جاری ہے۔بھارتی حکام کی جانب سے پہلے اس کی تردید کی جاتی رہی

تاہم گزشتہ روز انہوں نے اس بات کا اعتراف کرلیا کہ ریاست تامل ناڈو میں قائم بھارت کے سب سے بڑے ایٹمی پلانٹ کڈان کلام کے نیٹ ورک پر سائبر حملہ ہوا ہے۔حکام نے اس کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ وائرس ایٹمی پلانٹ کے انتظامی کمپیوٹر میں پایا گیا ہے تاہم ایٹمی پلانٹ کو کنٹرول کرنے والے سسٹم اس سے محفوظ رہے ہیں۔نیوکلیئر پاور پلانٹ کارپوریشن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جس کمپیوٹر میں وائرس آیا وہ ایک ایسے یوزر کا تھا جو انتظامی امور کے نیٹ ورک سے منسلک رہتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاور پلانٹ کے نیٹ ورک کی مسلسل نگرانی ہو رہی ہے۔بھارتی ماہرین کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ڈی ٹریک نامی وائرس کا استعمال کیا گیا ہے، جس کا تعلق ایک ہیکر گروپ لزارس سے ہے۔ادھر امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لزارس نامی اس ہیکنگ کے گروہ کو شمالی کوریا کی حکومت استعمال کرتی ہے۔خیال رہے کہ یہ افواہیں اس وقت منظر عام پر آئیں جب خفیہ ادارے کے ایک تجزیہ کار پکھراج سنگھ نے ٹوئٹر پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ بھارت کے ’مشن کریٹیکل ٹارگیٹس‘ پر سائبر حملہ ہوا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق اپنے ابتدائی بیان میں حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت کے نیوکلیئر پلانٹ پر سائبر حملہ ہو ہی نہیں سکتا جبکہ اس کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ایٹمی پلانٹ کا اپنا نیٹ ورک ہے اور یہ عالمی نیٹ ورک سے جڑا ہوا نہیں ہے۔تاہم ایک روز بعد بھارتی حکام نے اعتراف کرلیا کہ ملک کے سب سے بڑے ایٹمی پلانٹ پر سائبر حملہ ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…