اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان کے بڑی تعداد میں اراکین پارلیمنٹ کے پاس جدیدہتھیاروں کے ذخیرے کا انکشاف،ممنوعہ ہتھیار بھی شامل

datetime 31  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)اسلحے کے حوالے سے سیاستدانوں کے جنون کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ درجنوں اراکین پارلیمنٹ کے پاس ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے جس میں فوجی طرز کے ممنوعہ ہتھیار بھی شامل ہیں جنہیں زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے 2018 میں ظاہر کیے گئے اثاثے کے تفصیلی جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ بہت سے اراکین پارلیمنٹ کی ملکیت میں متعدد ممنوعہ اور غیر ممنوعہ ہتھیار موجود ہیں۔

ان ہتھیاروں میں جرمن جی-3 بیٹل رائفل اور ایم پی-5 سب مشین گنز سے لے کر روسی ساختہ اے کے-47 یا معروف کلاشنکوف بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ مختلف معیار کی شاٹ گنز سے لے کر آسٹرین گلوک اور روسی ساختہ میکاروف پستول بھی ان کے اسلحہ خانے کا حصہ ہیں۔جن 99 اراکین نے اپنے اثاثوں میں ہتھیاروں کو ظاہر کیا ہے ان میں سے اکثریت نے مبہم تفصیلات فراہم کی ہیں جس میں ہتھیاروں کے نمبر یا ساخت نہیں بتائی گئی تو کئی افراد نے اس کی مالیت کا ذکر نہیں کیا اور دعوی کیا کہ یہ ہتھیار یا تو انہیں وراثت میں ملے یا تحفے میں ملے۔وہ افراد جنہوں نے اپنے اثاثوں میں ہتھیار ظاہر کیے ان میں قومی اسمبلی کے 19 اراکین، 10سینیٹرز، سندھ اسمبلی کے 47 اراکین، پنجاب اسمبلی کے 9 اراکین، بلوچستان اسمبلی کے 8 اراکین جبکہ خیبرپختونخوا ہ اسمبلی کے 6 اراکین شامل ہیں تاہم اس میں قبائلی اضلاع کے اراکین شامل نہیں۔اسی طرح سابق صدر آصف علی زرداری جو شہید بے نظیر آباد سے رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے انہوں نے اپنی ملکیت میں ایک کروڑ 66 لاکھ روپے مالیت کے ہتھیار ظاہر کیے۔ ایک اندازے کے مطابق ان کے پاس 100 سے زائد ہتھیار موجود ہیں۔جن کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم خان سواتی ہیں جن کے ظاہر شدہ اسلحے کی مالیت 50 لاکھ روپے ہے۔اس ضمن میں خیبرپختونخوا ہ کے ایک قانون ساز نے بتایا کہ جو کچھ منتخب اراکین نے ظاہر کیا وہ سمندر کے مقابلے قطرے کی مانند ہے۔انہوں نے کہا کہ

میرے پاس درجنوں ہتھیار موجود ہیں لیکن کبھی انہیں اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا کیوں کہ اکثر اراکین سمجھتے ہیں کہ ان کی زندگی کو لاحق خطرات اور سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر ہتھیار رکھنا ضروری ہے۔رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی روابط ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے اثاثوں میں 9 لاکھ 6 ہزار روپے کے ہتھیار ان کے اپنے نام پر ہیں جبکہ ان کے شوہر ذوالفقار مرزا کے اسلحے کی مالیت 16 لاکھ 20 ہزار روپے ہے۔اسی طرح آصف علی زرداری کے بہنوئی رکن صوبائی اسمبلی منور علی تالپور کے پاس 12 لاکھ 40 ہزار روپے کے ہتھیار جبکہ ان کی اہلیہ فریال تالپور کے اثاثوں میں 14 لاکھ 80 ہزار روپے کے ہتھیار ظاہر کیے گئے۔وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی ملکیت میں 6 لاکھ 30 ہزار روپے کے ہتھیار موجود ہیں تاہم ان کی نوعیت کے حوالے سے تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…