ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

آزادی مارچ اسلام آباد ایکسپریس وے پہنچ گیا،شرکاءکی تعداد کتنی ہے؟ نجی ٹی وی کی رپورٹ، بڑا دعویٰ کردیا‎

datetime 31  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اپوزیشن جماعتوں کا آزادی مارچ اپنی منزل کی جانب گامزن ہے، آزادی مارچ روات ٹی چوک کراس کرتے ہوئے اسلام آباد ایکسپریس وے کورال چوک کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق آزادی مارچ کا قافلہ انتہائی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے کیونکہ اس میں ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں موجود ہیں،

میڈیا ذرائع کے مطابق اس وقت پشاور موڑ جلسہ گاہ میں شرکاء کی تعداد تقریباً چار ہزار ہے، مزید قافلے جلسہ گاہ کی جانب رواں دواں ہیں، پشاور سے مرکزی قافلہ بھی ابھی تک نہیں پہنچ پایا ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے قافلے کے پہنچنے کے بعد ہی پشاور کا مرکزی قافلہ پشاور موڑ جلسہ گاہ میں پہنچے گا، ذرائع کا کہنا ہے کہ حتمی جلسہ اور خطاب بھی کل بروز جمعہ کو ہی کیا جائے گا۔ دوسری جانب وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آزادی مارچ سے حکومتیں نہیں گرتیں،جے یو آئی کے مطالبات میں ابہام ہے مولانا فضل الرحمان معاہدے کی پاسداری کریں، ہر سال کے بعد انتخابات ہونا شروع ہو جائیں تو ملک اور معیشت نہیں چل سکتی، تھوڑا انتظار کرلیں حکومت کو پانچ سال کا مینڈیٹ ملا ابھی تو ایک سال ہوا ہے،آزادی مارچ پر حکومت کا رویہ جمہوری تقاضوں کے مطابق ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گورنر ہاؤس لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں جو زیادتیاں کی گئی ہیں اسے قومی و بین الاقوامی میڈیا اجاگر کر رہا تھا تاہم اب میڈیا کی توجہ بٹ گئی ہے۔بھارت کا میڈیا اس وقت مطمئن ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ کسی حد تک کامیاب ہوگیا ہے۔بھارتی میڈیا سمجھتا ہے کہ پاکستان کی کشمیر کے مسئلے پر جو توجہ تھی آج وہ اپنے اندرونی معاملات پر مصروف ہے اور ان کی جان چھوٹ رہی ہے، بیانیہ تبدیل کرنے کے لیے کسی حد تک یہ احتجاجی ریلی ان کے لیے کارساز ثابت ہوی ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کررہاہے، مسئلہ کشمیرپراقوام متحدہ کی قراردادیں موجودہیں، لیکن بھارت مسئلہ کے حل سے کتر ارہاہے۔9نومبر کو وزیر اعظم عمران خان کرتار پور راہداری کا افتتاح کریں گے اور کرتار پور راہداری کے حوالے سے معاہدے کی پاسداری میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کرتارپور راہداری کھولنے کا فیصلہ ہماری طرف سے جذبہ خیرسگالی کا پیغام ہے اور اس کی وجہ سے سکھ برادری پاکستان کی اس کوشش سے خوش ہے۔انہوں نے کہاکہ پنجاب کے تقسیم کی جو تلخی تھی اس پر کرتار پور راہداری نے مرہم رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی آزادی ہے اور چند روز قبل ہی ملک میں دیوالی منائی گئی، یہاں مندر، گردوارے گرجا گھر سب آباد ہیں اور کسی کو کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…