بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

آزادی مارچ اسلام آباد ایکسپریس وے پہنچ گیا،شرکاءکی تعداد کتنی ہے؟ نجی ٹی وی کی رپورٹ، بڑا دعویٰ کردیا‎

datetime 31  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اپوزیشن جماعتوں کا آزادی مارچ اپنی منزل کی جانب گامزن ہے، آزادی مارچ روات ٹی چوک کراس کرتے ہوئے اسلام آباد ایکسپریس وے کورال چوک کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق آزادی مارچ کا قافلہ انتہائی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے کیونکہ اس میں ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں موجود ہیں،

میڈیا ذرائع کے مطابق اس وقت پشاور موڑ جلسہ گاہ میں شرکاء کی تعداد تقریباً چار ہزار ہے، مزید قافلے جلسہ گاہ کی جانب رواں دواں ہیں، پشاور سے مرکزی قافلہ بھی ابھی تک نہیں پہنچ پایا ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے قافلے کے پہنچنے کے بعد ہی پشاور کا مرکزی قافلہ پشاور موڑ جلسہ گاہ میں پہنچے گا، ذرائع کا کہنا ہے کہ حتمی جلسہ اور خطاب بھی کل بروز جمعہ کو ہی کیا جائے گا۔ دوسری جانب وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آزادی مارچ سے حکومتیں نہیں گرتیں،جے یو آئی کے مطالبات میں ابہام ہے مولانا فضل الرحمان معاہدے کی پاسداری کریں، ہر سال کے بعد انتخابات ہونا شروع ہو جائیں تو ملک اور معیشت نہیں چل سکتی، تھوڑا انتظار کرلیں حکومت کو پانچ سال کا مینڈیٹ ملا ابھی تو ایک سال ہوا ہے،آزادی مارچ پر حکومت کا رویہ جمہوری تقاضوں کے مطابق ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گورنر ہاؤس لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں جو زیادتیاں کی گئی ہیں اسے قومی و بین الاقوامی میڈیا اجاگر کر رہا تھا تاہم اب میڈیا کی توجہ بٹ گئی ہے۔بھارت کا میڈیا اس وقت مطمئن ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ کسی حد تک کامیاب ہوگیا ہے۔بھارتی میڈیا سمجھتا ہے کہ پاکستان کی کشمیر کے مسئلے پر جو توجہ تھی آج وہ اپنے اندرونی معاملات پر مصروف ہے اور ان کی جان چھوٹ رہی ہے، بیانیہ تبدیل کرنے کے لیے کسی حد تک یہ احتجاجی ریلی ان کے لیے کارساز ثابت ہوی ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کررہاہے، مسئلہ کشمیرپراقوام متحدہ کی قراردادیں موجودہیں، لیکن بھارت مسئلہ کے حل سے کتر ارہاہے۔9نومبر کو وزیر اعظم عمران خان کرتار پور راہداری کا افتتاح کریں گے اور کرتار پور راہداری کے حوالے سے معاہدے کی پاسداری میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کرتارپور راہداری کھولنے کا فیصلہ ہماری طرف سے جذبہ خیرسگالی کا پیغام ہے اور اس کی وجہ سے سکھ برادری پاکستان کی اس کوشش سے خوش ہے۔انہوں نے کہاکہ پنجاب کے تقسیم کی جو تلخی تھی اس پر کرتار پور راہداری نے مرہم رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی آزادی ہے اور چند روز قبل ہی ملک میں دیوالی منائی گئی، یہاں مندر، گردوارے گرجا گھر سب آباد ہیں اور کسی کو کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…