ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

حکومت انصارالاسلام پر پابندی لگا کرپھنس گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 28  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ جمعیت علماء اسلام (ف) کی تنظیم انصارالاسلام پر پابندی کا بظاہر نوٹیفکیشن غیر موثر ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں جے یو آئی (ف) کی ذیلی تنظیم انصارالاسلام پر پابندی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے وزارت داخلہ کے افسر کو کل منگل کو طلب کرلیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جمعیت علماء اسلام کو سنے بغیر وزارت داخلہ نے پابندی لگائی، وزارت داخلہ عدالت کو مطمئن کرے کہ کسی کو سنے بغیر کیسے پابندی لگا دی۔جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام سیاسی جماعت کے طور پر الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے اور انصارالاسلام پرائیویٹ ملیشیا نہیں بلکہ ہماری تنظیم جے یو آئی کا حصہ ہے، قائداعظم کے دور سے یہ تنظیم کام کر رہی ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اگرانصارالاسلام کے کارکن سیاسی جماعت کے رکن ہیں تو پھر اس پر پابندی کا نوٹیفکیشن ہی غیر موثر ہے، پرائیویٹ ملیشیا نہیں لیکن اس کے پاس ڈنڈے تو ہیں۔ وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ ڈنڈے تو جھنڈوں کے ساتھ لگے ہوتے ہیں۔عدالت نے پوچھا کہ کیا وفاقی حکومت نے آپ کا موقف سنا بھی ہے یا نہیں۔ وکیل نے جواب دیا کہ وزارت داخلہ نے ہمیں سنے بغیر پابندی لگا دی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جب تنظیم کا باقاعدہ وجود ہی نہیں تو اس پر پابندی کیسے لگ سکتی ہے، کم از کم حکومت آپ سے پوچھ تو لیتی کہ یہ تنظیم کیا ہے، 24 اکتوبر کو وزارتِ داخلہ نے انصارالاسلام پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ایک چیز موجود ہی نہیں اور اس پر پابندی لگا دی گئی، میری رائے کے مطابق تو یہ نوٹیفکیشن ہی غیر موثر ہے۔ انصار کے کارکن خاکی وردی کی بجائے سفید پہن لیں توپھر کیا ہوگا۔عدالت نے وزارت داخلہ کے افسر کو طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…