ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

ہم چاہتے ہیں کہ یہ خود مستعفی ہو کر گھر چلے جائیں، لیکن لگتا ہے کہ حکمران شرافت کی زبان نہیں سمجھتے، مولانافضل الرحمان شدید مشتعل،بڑے اقدام کا اعلان کردیا

datetime 27  اکتوبر‬‮  2019 |

حیدرآباد(این این آئی)جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ غیرآئینی غیرقانونی ناجائز مسلط حکومت عوام اب مزید برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ یہ خود مستعفی ہو کر گھر چلے جائیں، لیکن لگتا ہے کہ حکمران شرافت کی زبان نہیں سمجھتے، لیکن وہ اسلام آباد میں عوام کے سیلاب مں بہہ جائیں گے، حکمران غیرقانونی اور غیرجمہوری اقدامات سے باز آ جائیں ورنہ ہمارے سینے ہوں گے

اور ان کی گولیاں، ہم پاکستان کی عزت، نظرئیے اورعقیدہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے جان و مال سمیت کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور مولانا راشد محمود سومرو کی قیادت میں “آزادی مارچ” کا بڑا قافلہ کراچی سے بذریعہ موٹروے حیدرآباد بائی پاس وادھواہ گیٹ پر پہنچا تو پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماء سینیٹر مولا بخش چانڈیو اور پیپلزپارٹی کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات عاجز دھامرہ کی قیادت میں کارکنوں نے ان کا استقبال کیا، اس سے پہلے بائی پاس پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کلیم شیخ اور جمال عارف سہروردی کی قیادت میں آزادی مارچ کا استقبال کیا اور پھول نچھاور کئے، پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے استقبالی کیمپ بھی قائم کئے تھے جبکہ ہٹڑی بائی پاس پہنچنے پر جے یو آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے مولانا تاج محمد ناہیوں اور حافظ اعظم جہانگیری کی قیادت میں استقبال کیا اور پھر اسلام آباد کے لئے قافلے میں شامل ہو گئے، انصار الاسلام کے کارکنوں کی بڑی تعداد بھی نظم و ضبط قائم رکھنے کے لئے موجود تھی۔مولانا فضل الرحمن نے بڑے استقبالی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ موجودہ حکومت سے نجات کا مارچ ہے جس کا آغاز باب الاسلام سندھ سے کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ جس طرح کراچی سے یہاں تک جگہ جگہ مارچ کاشاندار استقبا کیا گیا ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد اشریک ہوتی جا رہی ہے ان شاء اللہ ہمارے اسلام آباد پہنچنے تک حکمران بہہ چکے ہوں گے،

انہوں نے کہا کہ حکمران سن لیں کہ قوم متحد ہو چکی ہے اور اس حکومت کو گھر بھیج کر رہے گی، انہوں نے کہا کہ آج ہم نے پورے ملک میں مظلوم کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیا ہے ہم ہر طرح ان کی پشت پر ہیں اور آزادی کی منزل حاصل ہونے تک ان کے شانہ بشانہ رہیں گے لیکن کشمیری عوام بھی سمجھ لیں کہ ان حکمرانوں کے جھوٹے وعدوں سے انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا،

انہوں نے کہا کہ ہمارا آزادی مارچ موجودہ ناجائز حکومت کے خلاف ہے جس نے ملک کو تباہ و برباد کر دیا ہے، انہوں نے کہا کہ ان حکمرانوں کو غیرقانونی اور ناجائز طور پر ملک پر مسلط کیا گیا ہے جس کو گھر بھیجنے کا عوام کے ساتھ مل کر ہم نے عزم کر رکھا ہے اور جلد ان سے نجات مل جائے گی، ہم منزل کی طرف سفر کر چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ عوام اب ان غیرآئینی غیرقانونی اور نااہل حکمرانوں کو مزید برداشت نہیں کریں گے بہتر یہ ہے کہ یہ خود استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں لیکن محسوس ہوتا ہے کہ یہ شرافت سے جانے والے نہیں ہیں،

اسی لئے عوام اب ان سے کرسی خالی کرانے کے لئے میدان میں نکل رہے ہیں اب کوئی طاقت ان کو نہیں بچا سکتی، انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ بہت کچھ ہو چکا اب ان مسلط حکمرانوں کے ناجائز اقدامات کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا، وہ جو کچھ کر چکے اب بس کریں ورنہ آگے چل کر ہمارے سینے ہوں گے اور ان کی گولیاں، انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی عزت نظرئیے اور ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے جان و مال سمیت کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ آزادی مارچ اسلام آباد پہنچنے تک حکمران بہہ چکے ہوں گے کیونکہ باب الاسلام سندھ سے شروع ہونے والے آزادی مارچ میں چاروں صوبوں سے لاکھوں افراد شامل ہو رہے ہیں اور منزل تک پہنچنے پر عوامی سیلاب ان کو بہا لے جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…