بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

10 لاکھ سے زائد افراد کا حکومت مخالف احتجاج، کابینہ برطرف

datetime 27  اکتوبر‬‮  2019 |

سان تیاگو(این این آئی)چلی میں حکومتی اقدامات کے خلاف 10 لاکھ سے زائد افراد کے شدید احتجاج کے بعد صدر سباسٹین پنیرا نے اہم اقدامات اٹھاتے ہوئے کابینہ کو برطرف کرنے کا اعلان کر دیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چلی کے صدر سباسٹین پنیرا نے کابینہ کی برطرفی کا اعلان گزشتہ روز لاکھوں افراد کے پرامن احتجاج کے بعد کیا جن کا مطالبہ تھا کہ ملک کے معاشی نظام میں اصلاحات کی جائیں۔

چلی کے صدر نے کہا کہ تمام وزرا کو نوٹس بھیج دیا کہ کابینہ کو ازسرنو ترتیب دیا جائے تاکہ نئے مطالبات کو پورا کیا جائے۔جنوبی امریکی ملک میں حکومت کے عدم مساوات کے نظام کے خلاف احتجاج ایک ہفتے سے جاری ہے جو کرایوں میں اضافے پر شروع ہوا تھا۔مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات بھی پیش آئے جس کے نتیجے میں کم ازکم 17 افراد ہلاک جبکہ 7 ہزار سے زائد افراد کر گرفتار کیا گیا اور ملک کے کاروبار میں 14 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان بھی ہوا۔چلی کے صدر نے ہفتے کے آغاز میں ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی اور اہم شہروں میں سیکیورٹی کے لیے فوج کو تعینات کردیا تھا۔مظاہرین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ملک اس وقت وحشیوں کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔صدر کے ان الفاظ کے بعد حالات مزید خراب ہوئے اور شہریوں کی اکثریت کا کہنا تھا کہ صدر کے ان الفاظ اور کارروائیوں نے ملک کو آمر آگسٹو پنوشے کی فوجی حکمرانی کے دور کی طرف دھکیل دیا ہے۔دوسری جانب چلی کی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ شہر میں حالات معمول کی جانب گامزن ہیں جس کے لیے تعاون پر تمام شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور فوجی کرفیو بھی جلد ہی ہٹادیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…