بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے صدرشرف غنی کے ساتھ اختلافا ت کی وجہ سے استعفیٰ دیدیا،سنگین الزامات عائد

datetime 23  اکتوبر‬‮  2019 |

کابل (این این آئی)افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے صدرشرف غنی کے ساتھ اختلافا ت کی وجہ سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ بدھ کوصدر اشرف غنی کو بھیجے گئے استعفیٰ کاعکس فیس بک پر جاری کر تے ہوئے بتایا کہ صدر اشرف غنی اور ان کے دفتر نے ملک میں سیاسی مخالفتیں اور دوریاں پیدا کیں اور اداروں کے درمیان اختلافات پیدا کئے۔انہوں نے کہاکہ ان کی وزارت کے دور ان ایک متوازی نظام بنایاگیااوراداروں کو کمزور کرلیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ دنیا میں نظام کو مضبوط بنایا جاتا ہے لیکن افغانستان میں حکومتی اداروں کو ذاتی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے معاشرے میں اداروں کے درمیان بہت عرصے سے ٹکراؤ اورتعصب والا ماحول تھا۔انہوں نے کہاکہ میں اپنے ملک کی خاطر گزشتہ پانچ سال میں اس صورتحال کو برداشت کیا تاکہ نظام قائم رہ سکے۔انہوں نے کہاکہ میں نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے بہت مشکلات دیکھیں لیکن باوجود اس کے قومی مفادات کیلئے بڑی ذمہ داری سے کام کیا۔انہوں نے کہاکہ موجودہ نازک حالات میں جبکہ حکومت کے پانچ سال پورے ہو چکے ہیں میں دوسرے لوگوں کو کام کر نے کا موقع فراہم کررہا ہوں انہوں نے الزا م لگایا کہ کئی عناصر نے حکومتی اداروں کو تباہ کر نے کی کوشش کی۔اس ماحول میں میرے لئے کام کر نا مشکل ہے اور میں استعفیٰ دے رہا ہوں۔صلاح الدین ربانی کا تعلق جمعیت اسلامی پارٹی سے ہے اور افغانستان کے سابق صدر برہان الدین ربانی کے صاحبزادے ہیں۔وزارت خارجہ کی ذمہ داری سے قبل انہوں نے افغان امن کونسل کی سربراہ کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں سر انجام جام دیں تھیں۔افغانستان میں سوشل میڈیا کے مطابق حکومت کے ساتھ اختلافا ت کی وجہ سے صدر اشرف غنی نے صلاح الدین ربانی کو نظرانداز کر نا شروع کیا تھا۔صدر اشرف غنی نے ربانی کو بین الاقوامی کانفرنسوں میں نمائندگی سے بھی محروم کیا تھااور گزشتہ ماہ ان کی بجائے قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب کو اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھیجا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…