بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی قانون سازوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پھر تشویش ظاہر کردی

datetime 23  اکتوبر‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے وادی میں حالات معمول پر لانے کا مطالبہ کردیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں بیشتر قانون سازوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات پر سوالات اٹھائے۔جنوبی ایشیا کے لیے اسسٹنٹ سیکریٹری خارجہ ایلس ویلز نے کہا کہ

بھارت کے وادی کشمیر میں اقدامات کے اثرات کے حوالے سے امریکا بدستور خدشات کا شکار ہے۔انہوں نے ذیلی کمیٹی کو بتایا کہ امریکا نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کا احترام کرے اور انٹرنیٹ و موبائل فون سمیت تمام سروسز بحال کرے۔ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ امریکا کو کشمیر کے مرکزی سیاسی رہنماں سمیت شہریوں کی حراست اور مقامی و غیر ملکی میڈیا کی کوریج کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے پر بھی تشویش ہے۔کمیٹی کی نمائندہ و معروف خاتون ساز الہان عمر نے کہا کہ کشمیر میں بھارت کے اقدامات، نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اسلام مخالف اقدامات کا ہی حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں حراستی کیمپس قائم کیے جانے کی بھی رپورٹس ہیں، آسام میں تقریبا 20 لاکھ افراد رجسٹریشن کے متنازع عمل میں اپنی بھارتی شہریت ثابت نہیں کر پائے ہیں جن سے متعلق مودی کی حکومت کہہ رہی ہے کہ غیر قانونی مہاجر ملک میں نہیں رہ سکتے۔الہان عمر نے میانمار میں مسلمانوں کے خلاف خونی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی طرح روہنگیا کی نسل کشی کا آغاز ہوا۔انہوں نے کمیٹی اراکین کے سامنے سوال اٹھایا کہ ہم کب تک بھارت سے متعلق خاموش رہیں گے؟ کیا ہمیں آسام کے مسلمانوں کو ان حراستی کیمپوں میں ڈالے جانے کا انتظار ہے؟اس موقع پر ایلس ویلز نے کہا کہ ہم نے اپنی تشویش ظاہر کی ہے لیکن آسام میں شہریت کی رجسٹریشن کا عمل عدالت کے حکم پر ہوا جس کے خلاف اپیل کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…