جمعہ‬‮ ، 17 اپریل‬‮ 2026 

بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کر نے اور بلیک میلنگ کا معاملہ سنگین ہوگیا،صوبے بھر میں مظاہرے

datetime 20  اکتوبر‬‮  2019 |

کوئٹہ (این این آئی)نیشنل پارٹی کی مرکزی کال پر بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کر نے اور بلیک میلنگ کے خلاف پر یس کلب کوئٹہ،تربت، خضدار، حب لسبیلہ، نصیر آباد، کوہلو، پنجگور، نوشکی، خاران، چاغی، مستونگ، بولان، واشک، جعفر آباد، بارکھان سمیت پورے بلوچستان میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے، کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی جلسے سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنر ل جان محمد بلیدی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر اسحاق بلوچ،

ضلع کوئٹہ کے صدر حاجی عطاء محمد بنگلزئی،بلوچستان کے نائب صدر رحمت صالح بلوچ،خواتین صوبائی سیکرٹری ڈاکٹر شمع اسحا ق بلوچ، ممبر سینٹر ل کمیٹی نیاز بلوچ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات علی احمد لانگو،ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی عبدالصمد رند، بی ایس او کے وائس چیئر مین ملک زبیر بلوچ، صوبائی ورکنگ کمیٹی کے رکن مشکور بلوچ، صوبائی سیکرٹری میڈیا سعد دہوار صوبائی فنانس سیکرٹری سعید سمالانی نے خطاب کیا، احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں اس گھناؤنے عمل میں سابقہ وائس چانسلر اسکی پوری انتظامی ٹیم ملوث ہے صرف وائس چانسلر کی معطلی کافی نہیں اس دوران انکی پوری ٹیم کو برطرف کر کے ایف آئی اے کی تحقیقات اور ثبوتوں کی روشنی میں انکو کیفر کردار تک پہنچایا جائے انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو دس ہوگئے لیکن صوبائی حکومت خاموش ہے اسمبلی میں کمیٹی بنائی گئی کہ واقعہ کی تحقیقات کی جائیں گی اس قسم کی کمیٹی کا قیام اس سلگتے ہوئے اہم مسئلے کو سردخانے میں ڈالنے کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ کمیٹی توبنائی گئی لیکن کمیٹی کے اراکین چیئر مین کے انتخاب پر آپس میں الجھ گئے یہ کمیٹی اتنے سنگین واقعہ کی کیا تحقیقات کر یگی

بلکہ اس مسئلے کو مزید پیچیدہ اور التواء میں ڈال دے گی،انہوں نے کہا کہ بلوچستان یو نیورسٹی کی بد انتظامی اور نااہل وائس چانسلر کے اقدامات کے خلاف نیشنل پارٹی نے اسمبلی میں قرار داد پاس کی اور اس کے بعد ایف آئی اے نے تحقیقات کی اورسارے ثبوت موجود ہیں انکی روشنی میں سابقہ وائس چانسلر اور اسکی پوری نا اہل کرپٹ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ قائم کر کے انہیں گرفتار کیا جائے،انہوں نے کہا کہ سابقہ وائس چانسلر نے `1992میں بھی ایک طالبہ کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کیں

جسکی وجہ سے انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا،خفیہ کیمروں کی تنصیب بغیر وائس چانسلر کی منظوری کے ہو نہیں سکتی انہوں نیکہا کہ اس قسم کے غیر اخلاقی اقدامات کا مقصد صرف یہ ہے کہ بلوچستان کے طلبا ء اور طالبات پر درس و تدریس کے دروازے بند کئے جائیں جو بلوچستان کے لئے تعلیم دشمنی ہے، انہوں نے کہا کہ ایک طرف پورا بلوچستان اور ملک اس واقعہ کے خلاف سراپا احتجاج ہے لیکن ایک قوم پرست جماعت کے رکن اسمبلی نے جاکر وائس چانسلر سے ملاقات کر کے اپنے کچھ لوگوں کی تعیناتی کروائی ہے وائس چانسلر اور انکی انتظامی ٹیم کے خلاف تعیناتی سے لیکر آج تک تحقیقات کی جائیں جس میں مالی بدعنوانی، ڈگریوں کی بند ربانٹ،اقربا ء پروری اور غیر قانونی تعیناتیاں شامل ہونی چاہئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…