بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

خلیجی ملکوں کے پاس مجموعی طورپر288.2 ارب ڈالر کے امریکی بانڈز،سعودی عرب، امارات،قطر،عمران اور بحرین کے پاس کتنے ارب ڈالرز کے بانڈز ہیں؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 20  اکتوبر‬‮  2019 |

ریاض (آن لائن) ماہرین اقتصادیات نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک قومی ا?مدنی کا اہم حصہ منافع بخش سکیموں میں لگانے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں اور امریکی بانڈز میں سرمایہ کاری بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ سعودی عرب کے اخبار الاقتصادیہ کے مطابق خلیجی ممالک نے 288.2 ارب ڈالر

مالیت کے امریکی بانڈز خرید رکھے ہیں ان میں سے 64 فیصد سعودی عرب کے پاس ہیں،رواں سال اگست کے دوران امریکی بانڈز میں خلیجی ممالک کی سرمایہ کاری میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا، ماہ کے دوران خلیجی ممالک نے امریکی بانڈز میں 3.9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی،اس سے قبل وہ 288.2 ارب ڈالر سے امریکی بانڈز خریدے ہوئے تھے۔ خلیجی ممالک میں سب سے زیادہ امریکی بانڈز خریدنے والا ملک سعودی عرب ہے اور اس کا حصہ 63.8 فیصد ہے، متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر ہے جو 49.4 ارب ڈالر کے بانڈز خریدے ہوئے ہے اور اس کا تناسب 17.1 فیصد ہے،کویت کا نمبر تیسرا ہے جو 44.1 ارب ڈالر کے امریکی بانڈز کا حامل اور اس کا تناسب 15.3 فیصد ہے، چوتھا نمبر عمان کا ہے جو 8.8 ارب ڈالر کے امریکی بانڈز خریدے ہوئے ہے اور اس کا حصہ 3 فیصد ہے، قطر 5 ویں نمبر پر ہے جو 1.9 ارب ڈالر کے امریکی بانڈز کا مالک اور اس کا تناسب 0.6 فیصد ہے جبکہ چھٹا نمبر بحرین کا ہے جو 314 ملین ڈالر امریکی بانڈز میں لگائے ہوئے ہے اور اس کا تناسب 0.1 فیصد ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…