بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

ملک بھر میں بڑے صنعتکار و ں کا ایف بی آر کی ملی بھگت سے اربوں کے فنڈز ریفنڈکر انےکا انکشا ف

datetime 12  جون‬‮  2015 |

فیصل آباد(آن لائن)پاکستان میں سب سے زیادہ اربوں روپے کا ٹیکس چوری کرنے والوں میں بڑے بڑے صنعتکار ، ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مالکان ، ایکسپورٹرز اور امپورٹرز کے ساتھ ساتھ ایشیا کی سب سے بڑی یارن مارکیٹ (سوتر مارکیٹ )کے افراد شامل ہیں ۔ آن لائن کے مطابق انکم ٹیکس ، سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی میں اربوں روپے کی چوری کے ساتھ ساتھ صنعتکار اربوں روپے کے جعلی کلیمز کے ذریعے محکمہ ایف بی آر کی ملی بھگت سے اربوں روپے کے فنڈز بھی ریفنڈکراتے ہیں ۔ آن لائن کے سروے کے مطابق پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد سے صنعتکار بڑے تاجر ایکسپورٹرز اورامپوٹرز سالانہ اپنی آمدنی سے بیس ارب روپے کے لگ بھگ اپنے منافع سے زکوة نکالتے ہیں جبکہ حکومت کے خزانے میں صرف کروڑوں روپے کے حساب سے ٹیکسٹائل صنعت کے مالکان صنعتکار اور بڑے تاجر ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔ آن لائن کو مزید معلوم ہوا ہے کہ اس ٹیکس کی چوری میں محکمہ انکم ٹیکس ، سیلز ٹیکس ، کسٹم حکام نہ صرف ملوث ہیں بلکہ کسٹم انکم ٹیکس ، سیلز ٹیکس ، انکم ٹیکس کے کلرک سے لیکر کلیکٹر تک ماہانہ ان صنعتکاروں سے ٹیکس میں مدد دینے میں کروڑوں روپے کے حساب سے مبینہ طور پر رشوت وصول کی جاتی ہے جبکہ ایف بی آر کے ان اداروں کو چیک کرنے والے انٹیلی جنس ادارے بھی اس کرپشن میں مکمل طور پر ملوث پائے جاتے ہیں اگر پاکستان کے ٹیکسٹائل صنعتکار ، ایکسپورٹرز ، امپورٹرز اور بڑے صنعتکار مکمل طور پر ٹیکس ادائیگی کریں تو ملک سے مہنگائی کے ساتھ ساتھ غربت کا بھی مکمل خاتمہ ہوسکتا ہے مگر اربوں روپے ٹیکس چوری کی وجہ سے نہ صرف حکومت کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے بلکہ اس کا بوجھ پاکستان کے پسے ہوئے عوام پر ٹیکسوں کی صورت میں ادا کرنا پڑتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…