پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

پی ایس 11، پیپلزپارٹی کی شکست، اپنے ہی اہم رہنما ذمہ دار نکلے،ابتدائی رپورٹ بلاول بھٹو کو پیش،چونکا دینے والے انکشافات

datetime 18  اکتوبر‬‮  2019 |

لاڑکانہ(این این آئی) سندھ اسمبلی سے پی ایس گیارہ لاڑکانہ ٹو پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں جی ڈی اے کے ہاتھوں پیپلز پارٹی کے ہوم گراؤنڈ میں پیپلز پارٹی کو واضح مارجن سے شکست پر ابتدائی رپورٹ مقامی رہنماؤں کی جانب سے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو پیش کی گئی ہے، رپورٹ میں بیڈ گورننس سمیت مقامی و پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت کے درمیان اختلافات ہی ضمنی الیکشن میں شکست کی بنیادی وجہ قرار دئے گئے ہیں،

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو ضمنی الیکشن میں ان کا امیدوار نامزد نہ کیے جانے پر نالاں تھے، صوبائی وزیر سہیل انور سیال اپنے بھائی طارق سیال کو امیدوار نامزد کرنے کے خواہشمند تھے، بلاول بھٹو زراری کی جانب سے ضمنی الیکشن سے پہلے لاڑکانہ میں ضلعی تنظیم کو بھی تحلیل کرتے ہوئے کوآرڈینیشن کمیٹی بنائی گئی تھی لیکن 10 ہزار سے زائد ووٹ کی حامل شیخ برادری نے ایڈوائزی نا ملنے پر کوآرڈینیشن کمیٹی میں شمولیت سے انکار کرتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا تھا، میئر لاڑکانہ خیر محمد شیخ بھی شیخ برادری کے لیے الیکشن ٹکٹ چاہتے تھے، لیکن بلاول بھٹو کی مداخلت کے باوجود شیخ برادری نالاں ہی رہی، پارٹی اختلافات کے باعث پیپلز پارٹی ووٹرز دربدر رہتے تھے اور بنیادی مسائل حل نا ہونے پر ووٹرز نہایت نالاں تھے، لیاری کے بعد لاڑکانہ میں دوسری بار شکست پر عوام کی نظر میں پیپلزپارٹی کا بیانیہ اپنے گڑھ میں کمزور ہو چکا ہے اور اب چیئرمین پیپلز پارٹی کا انتہائی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ سامنے آیا ہے، ضمنی الیکشن میں شکست پر ذمہ داروں کی نشاندہی کی ہدایات کی گئیں ہیں، تنظیمی عہدیداروں کو ہٹانے پر غور کیا جا رہا ہے، پیپلزپارٹی سندھ میں صوبائی، ضلعی سطح پر نئے چہروں کو سامنے لائے جانے کا امکان بھی ہے، 2018 کے جنرل الیکشن میں لیاری میں بلاول بھٹو کی شکست کے بعد سعید غنی نے پارٹی عہدے سے استعفی دیا تھا اور اب لاڑکانہ میں دوسری مرتبہ شکست پر پیپلزپارٹی سندھ کے صدر کا بھی مستعفی ہونے کا امکان ہے،

پی ایس11 پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کا حلقہ بھی ہے، بتایا جا رہا ہے کہ پی ایس 11 ضمنی انتخاب کے نتائج نے پیپلز پارٹی کو پریشان کر رکھا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر نثار احمد ک?ڑو کے گھر کی پولنگ بھی پیپلزپارٹی ہار گئی، پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کے گھر کے قریب پرائمری اسکول نیو نظر محلہ کی پولنگ پیپلز پارٹی 91 ووٹوں سے ہاری ہے، پولنگ نمبر 53 پر جی ڈی اے کے معظم عباسی کو 316 جبکہ جمیل سومرو کو 225 ووٹ ملے،

نیو نظر محلہ کی پولنگ ہارنے پر صوبائی صدر نثار کھوڑو بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں، علاوہ ازیں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پارٹی کارکنان پر فخر ہے، ان کے امیدوار کو الیکشن پراسز سے روکا جاتا رہا، خواتین ووٹرز کے ووٹ میں تاخیری حربے استعمال کئے گئے جس کے باعث وہ نتائج کو الیکشن ٹربیونل سمیت سپریم کورٹ تک چیلنج کریں گے، تاہم لاڑکانہ کی عوام کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو، آصفہ بھٹو سمیت اراکین قومی و صوبائی اسمبلی 10 روز تک لاڑکانہ میں رہے اور الیکشن مہم چلائی لیکن عوام نے ان کے اثر رسوخ کو مسترد کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…