ہفتہ‬‮ ، 11 اپریل‬‮ 2026 

نئے پاکستان کے رنگ نرالے، وفاقی دارلحکومت اسلام آبادمیں جرائم کی شرح تین سو گنا بڑھ گئی،شہریوں نے سرپکڑ لئے،افسوسناک انکشافات

datetime 13  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی دارلحکومت میں جرائم کی شرح تین سو گنا بڑھ گئی،شہریوں نے سرپکڑ لئے،پولیس کے افسران نے کبوتر کی طرح آنکھیں بندکرلیں، نان پروفیشنل پولیس افسران و اہلکاروں کی تھانوں میں تعیناتی جرائم میں اضافہ کی بڑی وجہ ہے ۔آئی جی اور وزیر داخلہ دونوں نے وفاق کو بے یارومدد گار چھوڑ دیا ہے۔ایس ایچ اوز لاکھوں روپے دیکر تھانوں میں تعینات ہیں،اصلاح کے خواب پورے ہونے ناممکنات میں شامل ہیں،قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی رپورٹس کو وزیر داخلہ نے

پڑھنا تک گوارہ نہ کیا،تھانوں میں شہریوں کو دھتکارہ جانے لگا ہے۔معلومات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کی تعیناتی کے بعد وفاقی پولیس گہری نیند میں خراٹے مارنا شروع ہوگئی،تھانے مادر پدر ایک بار پتھر کے دور میں چلے گئے،دوسری جانب وفاقی پولیس کے اعلیٰ عہدہ پر فائز آئی جی بھی وزیر داخلہ کی جانب سے باز پرس نہ ہونے پر مکمل خاموشی اختیار کر لی ہے،گزشتہ ماہ وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی تو کہ جو پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے افسران شہر اقتدار میں اپنی مدت پوری کر چکیں ہیں انہیں دوسرے صوبوں میں فوری تعینات کیا جائے تاہم آئی جی اسلام آباد نے وزیر اعظم آفس سے سفارش کرواتے ہوئے تبدیلیاں رکوا لیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی تبدیلیاں دوسرے دن ہی کر دی گئیں چند دن بعد دوباہ وزیر داخلہ نے اسلام آباد پولیس کے افسران کو اسلام آباد سے فوری تبدیل کرنے کا حکم دیا تاہم حیرت انگیز طور پر وزیر داخلہ کو پھر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا اور تا حال تبادلے نہ ہو سکے۔جس کی وجہ سے قبضہ مافیا کے ایک بار پھر وارے نیارے ہو گئے ہیں دوسری طرف مقامی سیاسی قیادت کو بھی عام شہریوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اورہر کام سفارش اور پرچی کے بل بوتے ہونے لگا ہے۔عام شہریوں کے مطابق کہ وفاقی پولیس کے رینکر افسران اور اہلکاروں کو جب تک ضلع بد ر نہ کیا جائے وفاق سے جرائم کی شرح کسی صورت کم نہیں ہو سکتی ہے،سی آئی اے،کرائم سرکل،سپیشل برانچ اور

تھانے کے وہی اہلکار و افسران جو کہ بیس بیس سال سے تعینات ہیں اور انہوں نے مضبوط ترین ایک نیٹ ورک بنا رکھا ہے اور اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے چند سال کے لیے آنیوالے پولیس افسران کے بس کی بات نہیں ہے۔دوسری جانب انسپکٹرز کو لائن حاضر اور دوسری ڈیوٹیز پر تعینات کرکے سب انسپکٹرز کو ایس ایچ او بنا کر شہریوں کو مڈل میٹرک اور ایف اے پاس پولیس کے ہتھے چڑھا دیا گیا،متعدد بار دیکھا گیا ہے کہ میٹرک پاس ایس ایچ او کے سامنے ایم فل افراد زمین پر بیٹھ کر

اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں جو کہ انصاف اور عدل کے اصولوں کے خلاف ہے۔سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے دور میں پولیس کے بولٹ نٹ ٹائٹ کیے گئے تھے مگر انکے جانے کے بعد ڈھیلے ہوئے تو کوئی بھی پولیس آفیسر یا وزیرداخلہ ایسا نہ آ سکا جو کہ عام شہریوں کی آنکھ سے تھانوں کی کارگردگی کو دیکھتا۔بنی گالہ،کورال،لوہی بھیر،سہالہ،شہزاد ٹاؤن،گولڑہ،ترنول،نون،نیلور،بھارہ کہو و دیگر تھانوں میں ایس ایچ او ز کی تعیناتی ہوتے ہی وہ اپنے اپنے ایریاز کی ہاؤسنگ سوسائیٹزکو مانیٹر کرتے ہیں تاکہ میگا منی لیکر پھر وہ چلتے بنے۔وزارت داخلہ اگر شہریوں کی سہولیات سے مخلص ہے تو تمام ایس ایچ اوز اور سب انسپکٹرز رینک تک ملازمین کے اثاثہ جات چیک کرلیں، 80ہزار روپے کا ملازم اسلام آباد میں ارب پتی بن چکا ہے اور درجنوں پلاٹ اپنے اور اپنے عزیز و اقارب کے نام کروا رکھے ہیں۔



کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…