ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

حکومت اور وزراء  جو مرضی کہتے رہیں اسوقت حالات مولانا فضل الرحمن کے حق میں ہیں،اب کیا ہونیوالا ہے؟اعجاز الحق نے بڑی پیش گوئی کردی

datetime 13  اکتوبر‬‮  2019 |

عبدالحکیم (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ ضیاء  کے سربراہ سابق وفاقی وزیر محمد اعجاز الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانے میں ناکام رہی نئی حکومت بننے پر عوام یہ سوچ رہے تھے کہ شاید عمران خان ملک میں تبدیلی کی سوچ رکھنے والے انسان ہیں مگر 13 ماہ گزرنے جانے کے باوجود عوام آج بھی مایوس نظر آرہے ہیں ملکی کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اعجاز الحق نے کہا کہ اسوقت ملک کے حالات کنفیوڑن کا شکار ہیں

ان حالات میں حکومت کا کام تھا کہ وہ حالات میں بہتری لانے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کیساتھ بات چیت کرتے مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا اسوقت پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اسوقت کشمیریوں کیساتھ جو ظلم و بربریت کا کھیل کھیلا جارہا ہے ملک میں دہشت گردی نے ایک بار پھر اپنے پنجے گاڑھ لیے ہیں ایران اور سعودیہ کے معاملات اور ان اہم ایشوز پر حکومت اور اپوزیشن باہمی گفتگو اور مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہیے تھا اتنے کٹھن حالات کے باوجود حکومت نے اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود کبھی بھی اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کرنے اور اجتماعی مسائل پر ساتھ لیکر چلنے کی کوشش نہیں کی یہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر پارٹی کا ایک ہی لیڈر ہوتا ہے چاہے وہ میاں محمد نواز شریف ہو یا آصف علی زرداری، پارٹیوں میں اختلاف جمہوریت کا حسن ہے اختلافات ہر پارٹی میں ہوتے رہتے ہیں یہ پارٹیوں کے اپنے معاملات ہیں انہوں نے کہا کہ عوام اسوقت مہنگائی بیروزگاری لاقانونیت پر پریشان ہیں اکانومی کا ستیاناس ہو چکا ہے ڈاکٹرز تاجران بھی سڑکوں پر اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں ان تمام تر حالات میں مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کی راہ ہموار ہو رہی ہے حکومت اور وزراء  جو مرضی کہتے رہیں اسوقت حالات مولانا فضل الرحمن کے حق میں ہیں حکومت کو چاہیے کہ گیدڑ بھبھکیوں کی بجائے ملکی اداروں میں بہتری اور عوام کی روزمرہ کی سہولیات کیلئے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے –

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…