جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

سعودی ساحل کے قریب ایرانی تیل بردار جہاز پر راکٹوں سے حملہ، امریکی نیوی کاپانچواں بیڑہ بھی حرکت میں آگیا

datetime 11  اکتوبر‬‮  2019 |

تہران (این این آئی)ایرانی حکام نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساحل سے بحرہ احمر کے ذریعے سفر کرنے والے ایرانی تیل بردار جہاز پر 2 راکٹوں سے حملہ کیا گیاتاہم اس حملے سے متعلق سعودی عرب کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی سعودی حکام نے رابطہ کرنے پر فوری کوئی ردعمل دیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق حادثہ سعودی عرب کے شہر جدہ سے 60 میل کے فاصلے پر واقع پورٹ پر پیش آیا جہاں ایران کی نیشنل آئل کمپنی کے آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی۔امریکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ کی بندرگاہ کے قریب آئل ٹینکر میں دھماکے سے 2 اسٹور رومز کو نقصان پہنچا اور جہاز سے بحیرہ احمر میں تیل کا رساؤ شروع ہوگیا۔ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی نے ایران کے قومی ایرانین ٹینکر کو کے بیان کو نقل کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ جہاز کی شناخت سیبیٹی کے نام سے ہوئی، اس جہاز نے آخری مرتبہ اگست میں ایرانی ساحلی شہر بندر عباس کے قریب ٹریکنگ ڈیوائسز کو آن کیا تھا۔اس حوالے سے مشرق وسطیٰ کو دیکھنے والے امریکی نیوی کے 5 واں بیڑ ہبھی حرکت میں آگیا ہے اور بیڑے کے ترجمان لیفٹیننٹ پیٹی پاگانو نے کہا کہ وہاں موجود انتظامیہ اس واقعہ کی رپورٹس سے متعلق باخبر ہیں تاہم انہوں نے اس پر مزید تبصرے سے انکار کردیا۔خیال رہے کہ ایرانی تیل بردار جہاز پر حملے کا واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا، جب ایران کے سعودی عرب اور امریکا سے تعلقات کشیدہ ہیں اور خلیج کی ان دونوں ریاستوں کے کشیدہ تعلقات کے خاتمے میں پاکستان اپنا کردار ادا کررہا ہے، اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان 12 اکتوبر کو ایران اور سعودی عرب کا دورہ بھی کریں گے۔

یاد رہے کہ حملے کی رپورٹس امریکا کے اس الزام کے بعد آئیں جس میں اس نے کہا تھا کہ گزشتہ مہینوں میں خلیج فارس میں ابنائے ہرمز کے قریب ایران نے آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا لیکن تہران نے ان الزامات کو مسترد کردیا گیا تھا۔جمعہ کو پیش آنے والا یہ واقعہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔واضح رہے کہ ایک سال سے زائد عرصے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے امریکا کو الگ کرلیا تھا اور ایرانی کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے پابندیاں لگا دی تھیں۔امریکی صدر کے فیصلے کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب تیل ٹینکرز پر پراسرار حملے،

ایران کی جانب سے امریکی فوج کا نگرانی کرنے والا ڈرون گرانے اور دیگر واقعات مشرق وسطیٰ میں رونما ہوئے۔خیال رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی آرامکو کی ابقیق اور خریس کی تیل تنصیبات پر ڈرون حملے ہوئے تھے۔ان حملوں کی وجہ سے ریاض کی تیل کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی تھی جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا تھا۔اگرچہ یمن کے حوثی باغیوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن ریاض، واشنگٹن اور کئی یورپی حکومتیں کہتی ہیں کہ ان حملوں کا ذمہ دار ایران تھا تاہم تہران کی جانب سے ان ڈرون حملوں میں اپنے کردار کو مسترد کردیا گیا تھا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…