اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

پہلی بار تمہاری اسمبلی سیٹ چھینی گئی تمہیں اسلام یاد آگیا،جب نوازشریف ختم نبوت ترمیم کررہا تھا تب وزارتیں لیکر بیٹھے ہوئے تھے تب آپکی زبان پر ختم نبوتؐ کانام نہیں آیا ،قاری زوار بہادر‎

datetime 8  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)مفکر اسلام علامہ قاری محمد زوار بہادر نے اپنے ایک بیان میںمولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ مولاناصاحب آپ کے بڑے آج بھی کانگریس میں بیٹھ کر پاکستان مردہ باد کے نعرے لگاتے ہیں ، آپ نے پاکستان سے لیا ہی ہے کبھی دیا کچھ بھی نہیں ۔ آپ سے پہلی بار اسلام آباد کی سیٹ چھینی گئی تو آپ کو اسلام یاد آگیا ہے ،

ناموس رسالتؐ اور ختم نبوتؐ یاد آگئی جب نواز شریف قومی اسمبلی میں ختم نبوتؐ کے قانون میں ترمیم کر رہا تھا تو آپ کے پاس چھ وزارتیں تھیں چار کمیٹیوں کے چیئرمین آپ کے تھے آپ کی زبان پر اس وقت ختم نبوتؐ کا نام کیوں نہیں آیا ۔ مولانا فضل الرحمان بھی دوغلی پالیسی کے تحت لگے ہوئے ہیں جیل میں جا کر نواز شریف سے کہتے ہیں کہ جناب میں آپ کی رہائی کیلئے آزادی مارچ کر رہا ہوں ۔ زرداری اور بلاول بھٹو سے ملتے ہیں تو انہیں کہتے ہیں کہ میں تو آپ کی جان چھڑانے کیلئے دھرنا دے رہا ہوں ۔ ایسا جھوٹا آدمی ختم نبوتؐ کا پہرہ دے سکتا ہے؟ بالکل نہیں ۔ علامہ محمد زوار بہادر نے عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر پرکہا ہے کہ پاکستان میں آج تک کسی لیڈر کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ وہاں ناموس رسالتؐ پر بات کرے ۔کشمیر کے مسئلے پر ایک دو جملوں سے زیادہ ہمارا کوئی وزیراعظم وہاں بول نہیں سکا ۔وزیراعظم عمران خان کی تقریر سے لگ رہا تھا کہ وہاں ہمارا ترجمان کھڑا ہے ، پونا گھنٹہ انگریزوں کو آئینہ دکھایا جو اسلام فوبیا کا شکار ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان کو پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ ڈٹ جائیں شاید اللہ پاک آپ سے ناموس رسالتؐ کیلئے کوئی کام لینا چاہتا ہے ۔ اگر ناموس رسالتؐ کیلئے آپ ڈٹ گئے تو ایک فضل الرحمان نہیں ہزاروں فضل الرحمان بھی آجائیں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ ‎‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…