جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی طالبعلموں نے مصنوعی جلد تیار کرنے کا کامیاب تجربہ کرلیا، امریکہ سے 22 ڈالر فی سکوائر انچ خرچ ہوتا تھا، صرف 22 سینیٹ فی اسکوائر انچ میں تیار

datetime 7  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کو بتایا گیا ہے کہ کامسیٹس یونیورسٹی کے طلباء نے جھلس کر متاثر ہونیوالوں کیلئے مصنوعی جلد کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے، مصنوعی جلد 22 ڈالر فی اسکوائر انچ کے حساب سے امریکہ سے منگوائی جاتی ہے،

یہاں تیاری پر 22 سینٹ فی اسکوائر انچ لاگت آئی ہے،شوگر کے علاج کیلئے طالبعلم کی جانب سے بنائی گئی پٹی کی ریسرچ لیکر پورا ملک پھرا کسی نے توجہ نہ دیں، آسٹریلیا لے کر گیا تو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر مشتاق احمد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ کامسیٹس نے مصنوعی جلد بنانے کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے، مصنوعی جلد جھلس کر متاثر ہونے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔کامسیٹس حکام نے بتایا کہ مصنوعی جلد 22 ڈالر فی اسکوائر انچ کے حساب سے امریکہ سے منگوائی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں مصنوعی جلد کی تیاری پر 22 سینٹ فی اسکوائر انچ لاگت آئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے ایک طالبعلم نے ایک پٹی بنائی جس سے ذیابیطس کا علاج ہوتا ہے، میں اس ریسرچ کو پورے پاکستان میں لے کر پھرا مگر کسی نے توجہ نہیں دی،اس سے ہمیں ایک ارب روپے کے عوض کھربوں روپے کا ریونیو ملتا، میں اس فارمولے کو آسٹریلیا لے کر گیا تو اسے ہاتھوں ہاتھ لے لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایشیائی خطے میں ہماری جامعہ 131ویں نمبر پر ہے، ہمارے پاس 400 غیر ملکی طلباء ہیں مگر غیر ملکی فیکلٹی نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…