ہفتہ‬‮ ، 20 جون‬‮ 2026 

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے نام پرنوسربازوں نے نجی تعلیمی ادارے سے کیسےلاکھوں روپےہتھیا لئے ؟ جان کرآپ کی عقل بھی دنگ رہ جائیگی

datetime 7  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)نوسربازوں کے منظم گروہ نے وفاقی وزیر تعلیم بن کر کراچی کے ایک معروف نجی تعلیمی ادارے کے ڈین سے لاکھوں روپے ہتھیالیے۔ذرائع کے مطابق کراچی میں نوسربازوں کے منظم گروہ نے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود بن کر ایک معروف نجی تعلیمی ادارے کے ڈین سے 4 لاکھ روپے ہتھیالیے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اس آن لائن نوسربازی کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ایف آئی اے حکام کے مطابق ڈیفنس فیز 6 میں واقع معروف نجی کالج کے ڈین ندیم غنی کو کچھ عرصہ قبل کسی نامعلوم شخص نے فون کرکے وفاقی وزارت تعلیم اسلام آباد آفس کے سیکریٹری کے طور پر تعارف کرایا۔کالر نے کالج آپریٹر سے کہا کہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کالج کے ڈین سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ ڈین کے لائن پر آنے پر مذکورہ شخص نے ہولڈ کراکر کسی دوسرے شخص سے بات کرائی۔ بات کرنے والے دوسرے شخص نے اپنا تعارف شفقت محمود کے طور پر کرایا اور ایک بہترین تعلیمی ادارہ اسٹیبلش کرنے پر ڈین کی کام کی تعریف کی اور انہیں بتایا کہ وفاقی وزارت تعلیم کے ڈیٹا بیس میں ان کا کالج ملک کے بہترین تعلیمی اداروں کی فہرست میں ٹاپ پر ہے۔مذکورہ شخص نے یہ بھی بتایا کہ وزارت تعلیم طلبہ و طالبات کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت کے لیے چند تعلیمی اداروں کو بسوں کا عطیہ دے رہی ہے، جس میں ان کے کالج کو بھی دو بسیں دی جارہی ہیں۔مذکورہ شخص نے یہ بھی بتایا کہ ان کے سیکریٹری اور وزارت تعلیم کے لوگ ان سے رابطہ کرکے جلد یہ بسیں کالج انتظامیہ کے حوالے کردیں گے۔

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق اس کے بعد مختلف افراد نے خود کو وزارت تعلیم کے اہلکار ظاہر کرکے ڈین اور کالج انتظامیہ سے مسلسل رابطہ رکھا اور پھر ایک دن بتایا کہ ان کی دونوں بسیں کراچی بندرگاہ پر پہنچ چکی ہیں جن کی کسٹم کلیئرنس کے لیے فیس اور کسٹم ڈیوٹی کے لیے فی بس دو لاکھ روپے نیشنل بینک کی کے پی ٹی برانچ میں جمع کرانے ہیں۔اس کے لیے انہوں نے نیشنل بینک کا اکائونٹ نمبر بھی فراہم کیا۔

کالج انتظامیہ نے مذکور اکائونٹ میں 4 لاکھ روپے ٹرانسفر کردیے۔ذرائع کے مطابق کافی دنوں تک بسیں نہ ملنے کے بعد کالج کی انتظامیہ نے وزارت تعلیم اسلام آباد سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس طرح کی کسی ڈونیشن سے لاعلمی ظاہر کی۔مزید تحقیقات کرنے پر یہ تمام معاملہ فراڈ ثابت ہوا تو کالج انتظامیہ نے ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ سلطان علی خواجہ سے ملاقات کی اور اب کالج انتظامیہ کی جانب سے یہ کیس ایف آئی اے کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ جس پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…