اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

 نواز شریف کی کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل اور متفرق درخواستوں پرسماعت،فیصلے کی گھڑی آگئی

datetime 6  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد،سابق وزیر اعظم نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل اور متفرق درخواستوں پر سماعت  پیر  اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگی ،جسٹس عامر فارو ق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی سماعیت کریگا۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن)کے قائد سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل پر سماعت پیر کو ہوگی،

جسٹس عامر فارو ق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی سماعیت کریگا۔ ایک روزقبل سابق وزیر اعظم نواز شریف نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل کے ساتھ جج وڈیو اسکینڈل سے متعلق متفرق درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی تھی۔اپنے وکیل خواجہ حارث کے توسط سے جمع کروائی گئی اس درخواست میں نواز شریف نے موقف اپنایا کہ ویڈیو اسکینڈل کیس میں جج ارشد ملک کے بیان حلفی اور پریس ریلیز کو اپیل کا حصہ بنایا گیا جو ایک جانب کا موقف ہے۔انہوں نے استدعا کی کہ اس کیس میں دوسرے فریق کو بھی سن کر شواہد کا جائزہ لیا جائے۔دوسری جانب اس کیس کے مرکزی کردار ناصر بٹ نے بھی جج ارشد ملک کے ساتھ ملاقات کی آڈیو اور وڈیو ریکارڈنگ اور اس کی فورنزک رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست دائر کی گئی۔اپنے وکیل نصیر بھٹہ کے توسط سے جمع کروائی گئی اس درخواست میں ناصر بٹ نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف کی اپیل کے ساتھ اضافی دستاویزات لگانے کی اجازت دی جائے جن میں جج ارشد ملک سے ملاقات کی آڈیو وڈیو ریکارڈنگ، متعلقہ آڈیو وڈیو ریکارڈنگ کی فورنزک رپورٹ اور نوٹرائزڈ ٹرانسکرپٹ شامل ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ ارشد ملک نے 6 جولائی کی پریس کانفرنس کے نتیجے میں سات جولائی کو پریس ریلیز جاری کی اور 11 جولائی کو بیان حلفی جمع کرایا جس میں میرے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے

اور اپنی ملاقات کی آڈیو وڈیو ریکارڈنگ سے انکار کیا جو غلط ہے۔اپنی درخواست میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھ پر متعلقہ جج کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ میں نے نواز شریف کے حق میں فیصلہ دینے کے لیے جج کو دھمکیاں دیں جو سراسر بے بنیاد الزام ہے۔ناصر بٹ نے استدعا کی کہ چونکہ عدالت نے ارشد ملک کے بیان حلفی اور پریس ریلیز کو نواز شریف کی اپیل کے ریکارڈ کا حصہ بنایا اس لیے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اس سے متعلق دیگر دستاویزات کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…