بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

 نواز شریف کی کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل اور متفرق درخواستوں پرسماعت،فیصلے کی گھڑی آگئی

datetime 6  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد،سابق وزیر اعظم نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل اور متفرق درخواستوں پر سماعت  پیر  اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگی ،جسٹس عامر فارو ق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی سماعیت کریگا۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن)کے قائد سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل پر سماعت پیر کو ہوگی،

جسٹس عامر فارو ق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی سماعیت کریگا۔ ایک روزقبل سابق وزیر اعظم نواز شریف نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل کے ساتھ جج وڈیو اسکینڈل سے متعلق متفرق درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی تھی۔اپنے وکیل خواجہ حارث کے توسط سے جمع کروائی گئی اس درخواست میں نواز شریف نے موقف اپنایا کہ ویڈیو اسکینڈل کیس میں جج ارشد ملک کے بیان حلفی اور پریس ریلیز کو اپیل کا حصہ بنایا گیا جو ایک جانب کا موقف ہے۔انہوں نے استدعا کی کہ اس کیس میں دوسرے فریق کو بھی سن کر شواہد کا جائزہ لیا جائے۔دوسری جانب اس کیس کے مرکزی کردار ناصر بٹ نے بھی جج ارشد ملک کے ساتھ ملاقات کی آڈیو اور وڈیو ریکارڈنگ اور اس کی فورنزک رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست دائر کی گئی۔اپنے وکیل نصیر بھٹہ کے توسط سے جمع کروائی گئی اس درخواست میں ناصر بٹ نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف کی اپیل کے ساتھ اضافی دستاویزات لگانے کی اجازت دی جائے جن میں جج ارشد ملک سے ملاقات کی آڈیو وڈیو ریکارڈنگ، متعلقہ آڈیو وڈیو ریکارڈنگ کی فورنزک رپورٹ اور نوٹرائزڈ ٹرانسکرپٹ شامل ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ ارشد ملک نے 6 جولائی کی پریس کانفرنس کے نتیجے میں سات جولائی کو پریس ریلیز جاری کی اور 11 جولائی کو بیان حلفی جمع کرایا جس میں میرے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے

اور اپنی ملاقات کی آڈیو وڈیو ریکارڈنگ سے انکار کیا جو غلط ہے۔اپنی درخواست میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھ پر متعلقہ جج کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ میں نے نواز شریف کے حق میں فیصلہ دینے کے لیے جج کو دھمکیاں دیں جو سراسر بے بنیاد الزام ہے۔ناصر بٹ نے استدعا کی کہ چونکہ عدالت نے ارشد ملک کے بیان حلفی اور پریس ریلیز کو نواز شریف کی اپیل کے ریکارڈ کا حصہ بنایا اس لیے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اس سے متعلق دیگر دستاویزات کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…