اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

وزارت خارجہ کے کرپٹ افسران نے  ذاتی تجوریان بھرنے کیلئے ملکی  سلامتی داؤ پر لگادی ، اہم معلومات اور قومی راز چوری ہونے کا امکان،سنسنی خیز انکشافات

datetime 4  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن)  وزارت خارجہ کے کرپٹ افسران نے اپنی ذاتی تجوریان بھرنے کیلئے ملک کی سیکیورٹی داؤ پر لگادی، تمام حساس معلومات پر دسترس دینے کیلئے ویب سائیٹ کا   ایک  نجی کمپنی کو ٹھیکہ دیدیا۔ اہم معلومات اور قومی راز چوری ہونے کا امکان، نجی کمپنی کو حساس معاملات پردسترس دیتے وقت ملکی قواعد وضوابط کی بھی دھجیاں بکھر دی گئیں،

پیپرا رولز کے ساتھ ساتھ محکمہ قواعد کی بھی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی، دفتر خارجہ کے کرپٹ افسران نے قومی راز وں کی ویب سائٹ بنانے کا ٹھیکہ نجی کمپنی کودینے ملکی سیکیورٹی ایجنسیوں کو بھی ماموں بنا دیا۔وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی کو سیکنڈل کوعلم ہونے کے باوجود مجرمانہ خاموشی اختیا ررکھی ہے۔ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ نے ویب سائٹ کی برنڈنگ کیلئے  نجی کمپنی کو ٹھیکے پر دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ جس سے وزارت کی حساس معلومات لیک ہونے اور سرکاری ای میل تک غیرملکی اداروں کی دسترس ہونے کا بھی خطرہ لاحق ہوگیا، وزارت خارجہ کا ای میل سسٹم بھی ویب سائٹ سے ہی منسلک ہے، وزارت کا اپنا آئی ٹی شعبہ ہونے کے باوجود کنٹریکٹ نجی کمپنی کا دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کو اپ گریڈینگ کا فیصلہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کیا ہے اور نجی کمپنی کے ساتھ کوئی ذاتی تعلق یا رشتہ داری نہیں ہے، اس کے علاوہ وزیر خارجہ اس کمپنی کو ویب سائٹ کے اخراجات خود ادا کرینگے۔ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے اس سلسلے میں وزارت خارجہ کے افسران کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا تھا کہ ویب سائٹ کی اپ گریڈنگ اور اسے عوام کیلئے عام فہم کرنا اشد ضروری ہے۔ ترجمان دفترخارجہ کا مزید کہنا ہے کہ نجی کمپنی کو ویب سائٹ کو کسی قسم کے خطرات لاحق نہیں ہیں اور کوئی سیکیورٹی رسک نہیں کیونکہ وزارت خارجہ کی ویب سائٹ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونی ممالک کے سفراء  اور دیگر ادارے بھی مستفید ہوتے ہیں۔ تاہم اس کی عوام کیلئے عام فہم بنانے کیلئے سرکاری فنڈز کا استعما ل نہیں کیے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…