اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

تاجروں کی آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو مسائل سے آگاہ کرنے کے بعد حکومت کی ایک آنے کی قانونی حیثیت باقی نہیں رہی،شریف برادران میں  سوچ کافرق ہے،احسن اقبال کھل کربول پڑے

datetime 4  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ تاجروں کی جانب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اپنے مسائل سے آگاہ کرنے کے لیے کی گئی ملاقات کے بعد حکومت کی ایک آنے کی بھی قانونی حیثیت باقی نہیں رہی۔موجودہ حالات میں پاکستان کے سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ ہو گیا ہے،ہمیں اپنی فوج کو ان کے پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے پرسکون چھوڑ دینا چاہیے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مارچ کے مقاصد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔مارچ کے تین بنیادی مقاصد آئین کی بالادستی، حکومت کو گھر بھیجنا اور از سرنو انتخابات ہیں، ہم ان تینوں مقاصد کی تکمیل کے لیے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) او رپیپلز پارٹی کو دھرنے میں اپنے کارکنان کو شامل کرنے کے لیے متحرک کرنے کا وقت چاہیے تھا اسی لیے دونوں جماعتوں نے مارچ موخر کرنے کی بات بھی کی مگر جمعیت علمائے اسلم (ف)کی تیاری آٹھ ماہ سے مکمل تھی اس لئے وہ اس میں تاخیر نہیں کرنا چاہتے تھے۔جے یو آئی (ف) کے دھرنے میں مدرسے کے بچوں کی شرکت کے سوال پر احسن اقبال نے کہا کہ کیا کبھی پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے میں سکول اور کالجز کے بچوں کی شرکت پر کسی نے سوال اٹھایا ہے کہ وہ کیوں آتے تھے؟۔خواتین شیر خوار بچوں کے ساتھ دھرنے میں کیوں آتی تھیں؟ تو مدرسے کے طلبہ پہ اعتراض کیوں اٹھایا جارہا ہے؟۔پی ٹی آئی کے دھرنے پر تنقید مگر جے یو آئی کے دھرنے کے ساتھ دینے بارے سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دھرنے میں اس وقت کی حکومت کی قانونی حیثیت پر سوال نہیں اٹھے تھے مگر موجودہ حکومت کی حیثیت انتخابات کے بعد سے ہی مشکوک ہے۔بین الاقوامی جریدوں نے بھی 2018 کے انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھائے۔

اس سوال پر کہ آپ معاملات کو عدالت میں کیوں نہیں لے کے جاتے کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اچھا نہیں لگتا کہ ہر سیاسی معاملے کو عدالت میں لے کر جائیں، عدالت کسی ایک پارٹی کے حق میں فیصلہ دے دیتی ہے جس کے باعث دوسری پارٹی آہ و فغاں کرتی ہے نتیجتاًعدلیہ کا کردار متنازعہ ہو جاتا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ ملکی معیشت تباہ ہو چکی ہے، عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ حکومت ناکام ہو گئی ہے، ملک ایسے شخص کے حوالے کر دیا گیا ہے جس نے کبھی یونین کونسل تک نہیں چلائی۔

اس حکومت کے پاس غریبوں کو دینے کے لیے سرنج اور دوائی نہیں لیکن امیروں کے لیے 300 ارب روپے موجود ہیں، پی ٹی آئی کی کرپشن کی کہانیاں ان کے جانے کے بعد آئیں گی۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آزادی مارچ کے لیے فنڈنگ گراس روٹ سطح کے کارکنوں سے فنڈ ریزنگ کر کے کی گئی ہے، مولانا کو اپنی تیاری پر بہت اعتماد ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ 10لاکھ سے زیادہ لوگ مارچ میں شرکت کریں گے۔میاں برادران میں اختلافات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ دونوں بھائیوں میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا، ان کی صرف سوچ میں فرق ہے، شہباز شریف نے ہمیشہ کہا ہے کہ جو فیصلہ نواز شریف کا ہے وہی میرا ہے۔شہباز شریف کے پاس بھائی کو دھوکہ دینے کے بہت مواقع تھے مگر انہوں نے ہمیشہ بڑے بھائی کا ساتھ دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…