اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد کی نجی یونیورسٹی میں سیڑھیوں پر بے ہوش ہونے والا طالب علم دم توڑ گیا، ساتھی طلباء کا شدید احتجاج،افسوسناک واقعہ

datetime 4  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد کی نجی یونیورسٹی میں سیڑھیوں پر بے ہوش ہونے والا طالب علم دم توڑ گیا۔اسلام کی آباد کی نجی یونیورسٹی میں بزنس ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں دوسرے سیمسٹر کا طالب علم انعام الحق جاوید یونیورسٹی کی سیڑھیوں پر بے ہوش ہوا جسے قریبی میڈیکل سینٹر لے جایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔یونیورسٹی کے طلباء نے ساتھی کے انتقال پر کیمپس میں احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ طالب علم یونیورسٹی کی سیڑھیوں پر بے ہوش ہوا،

اس دوران یونیورسٹی میں نہ ہی ایمبولینس تھی نہ ہی کوئی ڈاکٹر تھا بلکہ انتظامیہ نے پرائیویٹ ایمبولینس اور گاڑی کو کیمپس میں داخل نہ ہونے دیا۔ساتھی طالب علموں کا سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں کہنا تھا کہ دل کا دورہ پڑنے کے بعد انعام الحق جاوید 45 منٹ تک کیمپس میں زندگی اور موت کی جنگ لڑتا رہا لیکن ایمبولینس کو داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ایک طالب علم نے الزام عائد کیا کہ گاڑی میں کیمپس سے باہر جاتے ہوئے ایک استاد کو ساتھی کو اسپتال لے جانے کا کہا گیا تو انہوں نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بچہ ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ نے طلباء کے الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ تربیت یافتہ طبی پیشہ ور افراد کے ذریعہ ہنگامی طبی علاج کرایا گیا اور مزید طبی علاج کیلئے نیشنل انسٹیٹیوٹ ہیلتھ (این آئی ایچ) کے میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔ڈاکٹرز کے مطابق طالب علم کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طالب علم کے اہل خانہ نے پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کردیا ہے اور میت بھی وصول کرلی ہے۔سوشل میڈیا پر جسٹس فار انعام کے نام سے ٹرینڈ بھی چل رہا ہے جس میں نجی جامعہ کی انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ساتھ ہی ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔ اسلام کی آباد کی نجی یونیورسٹی میں بزنس ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں دوسرے سیمسٹر کا طالب علم انعام الحق جاوید یونیورسٹی کی سیڑھیوں پر بے ہوش ہوا جسے قریبی میڈیکل سینٹر لے جایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…