اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

موجودہ وزیراعظم صرف چار ووٹوں کی برتری سے بنا،ہم نے جو کچھ کیا ہے اس کو بھگتنا تو پڑے گا، جمعیت علمائے اسلاف(ف)کے رہنما عبدالغفور حیدری کے اعترافات،کھل کر بول پڑے

datetime 4  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)سینیٹ میں جمعیت علمائے اسلام (ف)کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ اپوزیشن روز اول سے متحد ہوتی تووزیراعظم، صدر اور سپیکر پی ٹی آئی سے نہ ہوتا،موجودہ وزیراعظم صرف چار ووٹوں کی برتری سے بنیں ہیں،

وزیراعظم کے انتخاب کے وقت اختر مینگل نے مجھ سے خود کہا کہ اگر اپوزیشن متحد ہوتی ہے تو وہ چار ووٹ دینے کیلئے تیار ہیں،ہمارے نا اتفاقی کی وجہ سے موجودہ صورتحال کا سامنا ہے،ہم نے جو کچھ کیا ہے اس کو بھگتنا تو پڑے گا۔جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما جمعیت علمائے اسلام(ف) نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام جولائی2018کے انتخابات کے فوری بعد والے بیانیے پر اب بھی قائم ہے اور اسی بیانیے کی روشنی میں 27اکتوبر کو اسلام آباد لاک ڈاؤن کرنے کا آغاز کیا جائے گا،اپوزیشن کی جماعتوں کی طرف سے ابھی تک دھرنے میں شرکت سے انکار نہیں کیا گیا،بڑی اپوزیشن جماعتوں نے دھرنے کوپندرہ نومبر یا دسمبر تک موخر کرنے کی تجویز دیں ہیں،ہماری پارٹی کا موقف ہے کہ دسمبر میں بہت سردی ہو گی جو کی وجہ سے کارکنوں کو مشکلات کا سامنا ہو گا، اس لیے ستائس اکتوبر کی تاریخ رکھی گئی ہے۔مولانا عبدلغفور حیدری نے کہا کہ جب تک تمام مطالبات منوا نہیں لیتے اس وقت تک دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا،دھرنے میں شرکت کرنے والے کارکنوں کی سہولیات کا خیال بھی ہے،عنقریب اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس منعقد ہوں گے، جس میں دھرنے کے حوالے سے فیصلے ہوں گے،امید ہے کہ اپوزیشن جماعتیں دھرنے کی حمایت کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ لکھی تقریر جس کو بھی دیں وہ بہترین کریں گے،جنرل اسمبلی میں عمران خان نے کوئی تیر نہیں مارا، اسی جنرل اسمبلی میں مولانا فضل الرحمن اور میں نے خود تقاریر کیں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جنر ل اسمبلی میں ہمارے دھرنے کو کاؤنٹر کرنے کیلئے مذہب پر بات کی،ایک طرف مذہب کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف توہین رسالت کرنے والوں کیساتھ دوستی ہیں،جنرل اسمبلی میں کشمیرکو بیج کر آئے،کشمیر کے بارے میں قرارداد پیش کرنے کیلئے سولہ ووٹ تک حاصل نہ کر سکے،

اس سے بڑی شرمندگی اور کیا ہو گی۔ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ملک معاشی طور پر برباد ہو چکا ہے،صنعت کار اور مزدور دونوں پریشان ہیں، مزدوروں کو روزانہ کی بنیاد پر بے روزگار کیا جارہا ہے،پی ٹی آئی کی حکومت دعووں کے باجود ایک بھی بڑا منصوبہ شروع نہ کر سکا،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ایک چھوٹا آدمی ہے لیکن انہوں نے اپنی قد سے بہت بڑی بات کر کے دھرنے کے قافلے کوگزرنے کی اجازت نہ دینے کی بات کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…