اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم کی تقریر بہت اچھی تھی شاید بہت اچھی تھی لیکن فوکس کشمیر ہونا چاہیے تھا،بلاول بھٹو نے اپنے ہی بیان پر یوٹرن لے لیا

datetime 3  اکتوبر‬‮  2019 |

میرپور (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ وفاقی حکومت کو زلزلے سے متاثرہ افراد کو ان کے نقصان کے برابر معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔بلاول بھٹو زرداری نے میرپور آزاد کشمیر میں زلزلے سے متاثرہ علاقے کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے پاس اتنے پیسے ہیں کہ وہ متاثرہ خاندانوں کو ان کے نقصان کے برابر معاوضہ ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ وفاق کی ذمہ داری ہے کہ عوام کا خیال رکھے اور

ہم سب اس کے لیے آواز اٹھائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم یہاں زلزلہ متاثرین کے مشکل وقت میں ان سے اظہار یکجہتی کے لیے آئے ہیں، سندھ حکومت نے ریلیف کے لیے کیمپس اور دیگر ضروری اشیا بھیجی ہیں اور متاثرہ افراد کی تھراپی کے لیے سندھ کے ہسپتال کام کرنے کو تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ 50 سے زائد دنوں سے مقبوضہ کشمیر میں قید ہمارے بہن بھائیوں پر اس بھارتی ظلم کی مذمت کرتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ کشمیریوں کا حق رائے دہی کا بنیادی حق انہیں دلوانے کے لیے جدوجہد کریں گے۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام پر جو تاریخی حملہ ہوا ہے اس پر ہر پاکستانی جو بھی کرے کم ہے، ہمیں ان سے اظہار یکجہتی کے لیے ہر ممکن کام کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی تقریر اچھی ہوسکتی ہے مگر انہیں مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر زیادہ زور دینا چاہیے تھا۔انہوں نے کہاکہ عمران خان اقوام متحدہ میں کھڑے تھے اور انہیں ان ہی کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے عوام کے جمہوری حق کے لیے بات کرنی چاہیے تھی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور پیپلز پارٹی نے مشترکہ اجلاس کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ہم اس مسئلے کو نمایاں کر سکیں، تاہم بدقسمتی سے جس طریقے سے حکومت نے اجلاس منعقد کیا اس میں وزیر خارجہ ہی موجود نہیں تھے اور وزیر اعظم پارلیمنٹ کے فلور پر سوال کر رہے تھے کہ میں کیا کروں۔انہوں نے کہاکہ

اقوام متحدہ میں تقریر تو ہر سال ہوتی ہے مگر عمران خان نے ایسا کیا غیر معمولی کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور عمران خان اپوزیشن کو فتح کرنے میں مگن ہیں۔مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں شرکت سے انکار کے فیصلے کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی دھرنے کی سیاست کی مخالف ہے، تاہم مولانا صاحب کے دھرنے کی اخلاقی و سیاسی حمایت کا اعلان کیا ہے اور جلد مولانا صاحب سے ملاقات کروں گا’۔بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام (ف) پر بم حملے کی مذمت کرتے ہیں، تمام اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ایک ہے کہ یہ حکومت دھاندلی زدہ ہے اور اسے جانا ہوگا، تاہم ہماری اب تک کی حکمت عملی میں فرق ہے اور مستقبل میں ہوسکتا ہے کہ ہماری حکمت عملی ایک ہوجائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…