اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

چونیاں کیس میں 1543 افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ پر کتنے کروڑ خرچ کئے گئے؟ وزیراعلیٰ عثمان بزدار خود ہی حقیقت سامنے لے آئے

datetime 3  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے چونیاں کیس کے حوالے سے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہ کیس بڑے سائنٹیفک طریقے سے حل کیا ہے، انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہم نے 1543 لوگوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے اور اس پر 25 کروڑ روپے خرچ ہوئے، انہوں نے کہا کہ صرف ڈی این اے کے ٹیسٹوں پر پچیس کروڑ کا خرچہ ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے متاثرہ خاندان سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں انصاف فراہم کریں گے،

اللہ کا شکر ہے ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اس کیس کو سائنٹیفک طریقے سے حل کیا، دوبارہ اس قسم کا واقعہ نہ ہو ہم اس کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے چونیاں میں چار بچوں کو بدفعلی کے بعد قتل کے الزام میں گرفتار ملزم سہیل شہزاد کو15روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ ملزم کوچہر ہ ڈھانپ کر انتہائی سخت سکیورٹی میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج عبدالقیوم خان کے رو برو پیش کیا گیا۔ججنے استفسار کیا کہ ملزم کا چہرہ ڈھانپنے کی کیا ضرورت ہے؟۔ جس پر پولیس نے جواب دیا کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے چہرہ ڈھانپا گیا ہے۔ عدالت نے ملزم سے پوچھا کیا نام ہے آپکا؟ کچھ کہنا چاہتے ہو؟۔ ملزم نے جواب دیا کہ مجھے مارا نہ جائے۔ اس موقع پر ملزم کے اعترافی بیان بھی پیش کیا گیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ 1 ہزار 668 افراد کے ڈی این اے کروائے گئے، ملزم سہیل شہزاد کا ڈی این اے میچ کر گیا۔آر پی او شیخوپورہ، ڈی پی او قصور اور ایس پی انوسٹی گیشن پر مشتمل جے آئی ٹی نے تحقیقات کی ہیں۔ پراسیکیوشن کی جانب سے ملزم کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تاہم عدالت نے ملزم سہیل شہزاد کا 15روزہ جسمانی ریمانڈ دیتے ہوئے پولیس کے حوالے کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…