اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

اب تک مارشل لاء کی ذہنیت میں رہ رہے ہیں اور ہر چیز پر آرڈیننس جاری کرنے ہیں تو جمہوریت کس کام کی، جسٹس فائز عیسیٰ نے بڑے سوالات اٹھا دیے

datetime 2  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ہم اب تک مارشل لاء کی ذہنیت میں رہ رہے ہیں اور ہر چیز پر آرڈیننس جاری کرنے ہیں تو جمہوریت کس کام کی۔جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سپریم کورٹ بار ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ کیا

ہاؤسنگ فاونڈیشن متاثرین کو رقم دینے کو تیار ہے، اگر ہاؤسنگ فاؤنڈیشن متاثرین سے رقم کا معاملہ طے کر لے تو عدالت فیصلہ کرے گی، بظاہر اصل معاملہ چھ سو کنال کی رقم کا ہے۔ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے وکیل نے کہا کہ حکومت نے ہاؤسنگ فاونڈیشن سے متعلق جولائی میں صدارتی آرڈیننس جاری کیا ہے، پہلے ہی بہت ساری ادائیگیاں ہو چکی ہیں اب ممکن نہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ ہم اب تک مارشل لاء کی ذہنیت میں رہ رہے ہیں، جولائی میں یہ آرڈیننس آیا اور اسمبلی میں اس پر بحث بھی نہیں کروائی گئی، اگر ہر چیز پر آرڈیننس جاری کرنے ہیں تو پھر جمہوریت کس کام کی ہے، اسمبلی میں کسی بل پر بحث بھی نہیں کروائی جاتی۔صدرسپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی نے کہا کہ ہم ہاؤسنگ فاونڈیشن کو رقوم ادا کر چکے ہیں ہمارا معاملہ آئی 14 سے الگ ہے، ہمارے معاملے کو اور اس معاملے کو عدالت الگ الگ دیکھے۔ایف 14 سے متعلق متاثرین اور ہاؤسنگ فاونڈیشن کے دلائل مکمل ہوگئے جس پر کیس کی مزید سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…