بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست سے23ستمبر تک کتنےکم عمر کشمیری بچے گرفتارکئے گئے؟ بھارتی پولیس نے اعتراف کرلیا

datetime 2  اکتوبر‬‮  2019 |

سرینگر (این این آئی)مقبوضہ کشمیرمیں چار ججوں پرمشتمل جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی تشکیل شد ہ جوونیل جسٹس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ بھارتی پولیس نے رواں سال 5 اگست سے23ستمبر تک 18سال سے کم عمر کے144بچوں کو گرفتارکیا ہے جن میں 9 سال کے بچے بھی شامل ہیں۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق جوونیل جسٹس کمیٹی میں جسٹس اے ایم ماگرے، جسٹس ڈی ایس ٹھاکر، جسٹس سنجیو کمار اور جسٹس رشید علی ڈار شامل ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ میں پیش کی گئی۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ان میں 86بچوں کو فوجداری قوانین کے تحت احتیاطی تدابیر کے طورپرجبکہ باقی بچوںکو پتھرائو اور دیگر الزامات کے تحت گرفتارکیاگیاہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک گیارہ سالہ بچے کو5 اگست کوسرینگر کے علاقے بٹہ مالو سے کریمنل پینل کوڈ کی دفعہ 107 کے تحت جبکہ ایک 9سالہ بچے اورایک اور 11سالہ بچے کو7اگست کو بٹہ مالو سے ہی گرفتارکیاگیا تھا۔ چار ججوں پر مشتمل ہائی کورٹ کی کمیٹی نے ڈائریکٹر جنرل پولیس کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ کا نوٹس لیا ہے جنہوں نے ذرائع ابلاغ کی ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے ان کو جھوٹ قراردیاتھا جن میں بچوں کی گرفتاری اوران پر تشدد کا انکشاف کیا گیاتھا۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کو پارمپورہ ، بڈگام ، صدر، صورہ ، بٹہ مالو اوردیگر علاقوں سے گرفتار کیاگیاہے جبکہ سوپور، راجباغ اور پلوامہ میں بھی بچوں کو گرفتارکیاگیا ۔ ان بچوں کے خلاف پتھرائو اور بھلوے کرنے سمیت مختلف الزامات لگاکر مقدمات درج کئے گئے ہیں۔واضح رہے یہ وہ اعدادوشمار ہے جس کا اعتراف بھارتی پولیس نے خود اپنی رپورٹ میں کیا ہے جبکہ گرفتار بچوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…